السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: وطء السبايا بالملك قبل الخروج من دار الحرب باب: دار الحرب سے نکلنے سے پہلے قیدی لونڈیوں سے ملکیت کی بنیاد پر ہمبستری کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ حِينَ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدِمُنِي ". فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلَامٌ قَدْ رَاهَقْتُ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ خَدَمْتُهُ فَسَمِعْتُهُ كَثِيرًا مَا يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَظَلْعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ". فَلَمَّا فُتِحَ الْحِصْنُ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ، وَكَانَتْ عَرُوسًا وَقُتِلَ زَوْجُهَا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَدِّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّخَذَ حَيْسًا فِي نِطْعٍ صَغِيرٍ وَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا بِعَبَاءَةٍ خَلْفَهُ وَيَجْلِسُ عِنْدَ نَاقَتِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَجِيءُ صَفِيَّةُ فَتَضَعُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ ثُمَّ تَرْكَبُ، ⦗٢١١⦘ فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ". فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: " اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، اللهُمَّ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَأَخْرَجَاهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ بِامْرَأَةٍ أَوِ امْرَأَتَيْنِ مِنْ نِسَائِهِ وَالْغَزْوُ بِالنِّسَاءِ أَوْلَى لَوْ كَانَ فِيهِ مَكْرُوهٌ أَنْ يُتَوَقَّى قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَضَتِ الْأَحَادِيثُ فِي ذَلِكَ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ، وَمَضَتْ أَحَادِيثُ فِي غَزْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّسَاءِ فِي هَذَا الْكِتَابِ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب خیبر جانے کا ارادہ تھا: ”اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے“، تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور میں اس وقت بچہ تھا اور بلوغت کے قریب تھا۔ جب آپ ﷺ پڑاؤ کرتے تو میں آپ ﷺ کی خدمت کرتا۔ میں نے آپ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے اور قرض چڑھ جانے سے اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ جب قلعہ فتح ہو گیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا تذکرہ کیا گیا۔ وہ شادی شدہ تھیں، ان کا خاوند قتل ہو گیا تو نبی ﷺ نے ان کا انتخاب اپنے لیے کر لیا۔ جب ہم صہبا نامی جگہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے صحبت کی اور حلوے کے ساتھ ولیمہ کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے چادر کے ذریعے اپنے پیچھے سواری پر جگہ بنائی اور اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنے گھٹنے کو رکھا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر سوار ہوئیں۔ جب احد کا موقع آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں (مدینہ کے) دو پہاڑوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے غزوہ مریسیع میں ایک یا دو عورتوں کو ساتھ لیا اور عورت کو ساتھ لے کر غزوہ کرنا بہتر ہے اگرچہ (اس کی) چاہت کرنا مکروہ ہے۔