السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فتح مكة حرسها الله تعالى باب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَدِيبُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ " أُمِّنَ النَّاسُ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ فَلَا يُؤَمَّنُونَ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَمٍ، ابْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ، وَابْنُ نُقَيْذٍ ". فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُومِنَ، وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَلَمْ يُقْتَلْ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ قَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحًّا قَدْ سَمَّاهُ، وَقَتَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابْنَ نُقَيذٍ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمَقِيسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى وَأَسْلَمَتْ أَبُو جَدِّهِ سَعِيدُ بْنُ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَهُ الْقَبَّانِيُّ، وَفِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيمَنْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ أُمُّ سَارَّةَ مَوْلَاةٌ لِقُرَيْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي الْمَغَازِي سَارَّةُ مَوْلَاةٌ لِبَعْضِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِمَّنْ يُؤْذِيهِ بِمَكَّةَ.عثمان بن عبدالرحمن بن سعید مخزومی فرماتے ہیں کہ میرے دادا اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے تمام لوگوں کو پناہ دی سوائے چار افراد کے، ”ان کو کسی صورت بھی امن نہ دیا جائے بلکہ قتل کیا جائے گا“: 1۔ ابن خطل، 2۔ مقیس بن ضبابہ، 3۔ عبداللہ بن ابی سرح، 4۔ ابن نقید۔ ابن خطل کو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کے لیے عثمان رضی اللہ عنہ نے امان حاصل کر لی کیونکہ وہ ان کے رضاعی بھائی تھے اور مقیس بن ضبابہ کو ان کے چچا کے بیٹے لحا نے قتل کیا۔ ابن نقید کو علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور مقیس کی دو گانے والیاں بھی تھیں؛ ایک قتل کر دی گئی اور ایک کو چھوڑ دیا گیا وہ مسلمان ہو گئی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس کے قتل کا حکم دیا وہ ام سارہ قریش کی آزاد کردہ لونڈی تھی۔
ابن اسحاق کی روایت مغازی میں ہے کہ یہ بنو عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، جو مکہ والوں کو تکلیف دیتی تھی۔