حدیث نمبر: 18281
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَنِي نُفَاثَةَ مِنْ بَنِي الدِّيلِ أَغَارُوا عَلَى بَنِي كَعْبٍ وَهُمْ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ، وَكَانَ بَنُو كَعْبٍ فِي صُلْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ بَنُو نُفَاثَةَ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ، فَأَعَانَتْ بَنُو بَكْرٍ بَنِي نُفَاثَةَ وَأَعَانَتْهُمْ قُرَيْشٌ بِالسِّلَاحِ وَالرَّقِيقِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ قَالَ: فَخَرَجَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي كَعْبٍ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَمَا كَانَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَقِصَّةَ الْعَبَّاسِ وَأَبِي سُفْيَانَ حِينَ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمٌ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ النَّاسَ إِلَى الْأَمَانِ، أَرَأَيْتَ إِنِ اعْتَزَلَتْ قُرَيْشٌ فَكَفَّتْ أَيْدِيَهُمْ آمِنُونَ هُمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، مَنْ كَفَّ يَدَهُ وَأَغْلَقَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ ". قَالُوا: فَابْعَثْنَا نُؤَذِّنْ بِذَلِكَ فِيهِمْ. قَالَ: " انْطَلِقُوا فَمَنْ دَخَلَ دَارَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ وَدَارَكَ يَا حَكِيمُ وَكَفَّ يَدَهُ فَهُوَ آمِنٌ ". وَدَارُ أَبِي سُفْيَانَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، وَدَارُ حَكِيمٍ بِأَسْفَلِ مَكَّةَ، فَلَمَّا ⦗٢٠٣⦘ تَوَجَّهَا ذَاهِبَيْنِ قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا آمَنُ أَبَا سُفْيَانَ أَنْ يَرْجِعَ عَنْ إِسْلَامِهِ. قَالَ: " رُدَّهُ حَتَّى يَقِفَ وَيَرَى جُنُودَ اللهِ مَعَكَ ". فَأَدْرَكَهُ عَبَّاسٌ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَغَدْرًا يَا بَنِي هَاشِمٍ؟ فَقَالَ الْعَبَّاسُ: سَتَعْلَمُ أَنَّا لَسْنَا بِغُدُرٍ وَلَكِنْ لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ فَأَصْبِحْ حَتَّى تَنْظُرَ جُنُودَ اللهِ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ إِيقَافِ أَبِي سُفْيَانَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِ الْجُنُودُ، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَخَيْلِهِمْ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَأَعْطَاهُ رَايَتَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرِزَهَا بِالْحَجُونِ وَلَا يَبْرَحَ حَيْثُ أَمَرَهُ يَغْرِزُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِيمَنْ كَانَ أَسْلَمَ مِنْ قُضَاعَةَ وَبَنِي سُلَيْمٍ وَنَاسًا أَسْلَمُوا قَبْلَ ذَلِكَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرِزَ رَايَتَهُ عِنْدَ أَدْنَى الْبُيُوتِ بِأَسْفَلِ مَكَّةَ، وَبِأَسْفَلِ مَكَّةَ بَنُو بَكْرٍ وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةٍ وَهُذَيْلٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْأَحَابِيشِ قَدِ اسْتَنْصَرَتْ بِهِمْ قُرَيْشٌ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَكُونُوا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي كَتِيبَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي مُقَدِّمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَلَا يُقَاتِلُوا أَحَدًا إِلَّا مَنْ قَاتَلَهُمْ، وَأَمَرَ بِقَتْلِ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ مِنْهُمْ، عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ نُقَيْذٍ، وَابْنِ خَطَلٍ، وَمَقِيسِ بْنِ صُبَابَةَ، وَأَمَرَ بِقَتْلِ قَيْنَتَيْنِ لِابْنِ خَطَلٍ كَانَتَا تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتِ الْكَتَائِبُ تَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا عَلَى أَبِي سُفْيَانَ وَحَكِيمٍ وَبُدَيْلٍ، لَا يَمُرُّ عَلَيْهِمْ كَتِيبَةٌ إِلَّا سَأَلُوا عَنْهَا، حَتَّى مَرَّتْ عَلَيْهِمْ كَتِيبَةُ الْأَنْصَارِ فِيهَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَنَادَى سَعْدٌ أَبَا سُفْيَانَ: الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرْمَةُ. فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ فِي الْمُهَاجِرِينَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَرْتَ بِقَوْمِكَ أَنْ يُقَتَّلُوا، فَإِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ وَمَنْ مَعَهُ حِينَ مَرُّوا بِي نَادَانِي سَعْدٌ فَقَالَ: الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرْمَةُ، وَإِنِّي أُنَاشِدُكَ اللهَ فِي قَوْمِكَ. فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَعَزَلَهُ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ مَكَانَهُ عَلَى الْأَنْصَارِ مَعَ الْمُهَاجِرِينَ، فَسَارَ الزُّبَيْرُ بِالنَّاسِ حَتَّى وَقَفَ بِالْحَجُونِ وَغَرَزَ بِهَا رَايَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْدَفَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَتَّى دَخَلَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ، فَلَقِيَهُ بَنُو بَكْرٍ فَقَاتَلُوهُ فَهُزِمُوا وَقُتِلَ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَمِنْ هُذَيْلٍ ثَلَاثَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ وَانْهَزَمُوا، وَقُتِلُوا بِالْحَزْوَرَةِ حَتَّى بَلَغَ قَتْلُهُمْ بَابَ الْمَسْجِدِ، وَفَرَّ فَضَضُهُمْ حَتَّى دَخَلُوا الدُّورَ، وَارْتَقَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عَلَى الْجِبَالِ وَاتَّبَعَهُمُ الْمُسْلِمُونَ بِالسُّيُوفِ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، وَصَاحَ أَبُو سُفْيَانَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ: مَنْ أَغْلَقَ دَارَهُ وَكَفَّ يَدَهُ فَهُوَ آمِنٌ. فَقَالَتْ لَهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ وَهِيَ امْرَأَتَهُ: قَبَّحَكَ اللهُ مِنْ طَلِيعَةِ قَوْمٍ وَقَبَّحَ عَشِيرَتَكَ مَعَكَ. وَأَخَذَتْ بِلِحْيَةِ أَبِي سُفْيَانَ وَنَادَتْ: يَا آلَ غَالِبٍ، اقْتُلُوا الشَّيْخَ الْأَحْمَقَ، هَلَّا قَاتَلْتُمْ وَدَفَعْتُمْ عَنْ أَنْفُسِكُمْ وَبِلَادِكُمْ؟ فَقَالَ لَهَا أَبُو سُفْيَانُ: وَيْحَكِ اسْكُتِي وَادْخُلِي بَيْتَكِ فَإِنَّهُ جَاءَنَا بِالْحَقِّ. وَلَمَّا عَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَنِيَّةَ كَدَاءَ نَظَرَ إِلَى الْبَارِقَةِ عَلَى الْجَبَلِ مَعَ فَضَضِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: " مَا هَذَا⦗٢٠٤⦘ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنِ الْقِتَالِ "؟ فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: نَظُنُّ أَنَّ خَالِدًا قُوتِلَ وَبُدِئَ بِالْقِتَالِ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يُقَاتِلَ مَنْ قَاتَلَهُ، وَمَا كَانَ يَا رَسُولَ اللهِ لِيَعْصِيَكَ وَلَا لِيُخَالِفَ أَمْرَكَ. فَهَبَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ فَأَجَازَ عَلَى الْحَجُونِ، وَانْدَفَعَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى وَقَفَ بِبَابِ الْكَعْبَةِ وَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ فِيهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: " لِمَ قَاتَلْتَ وَقَدْ نَهَيْتُكَ عَنِ الْقِتَالِ؟ " فَقَالَ: هُمْ بَدَؤُونَا بِالْقِتَالِ وَوَضَعُوا فِينَا السِّلَاحَ وَأَشْعَرُونَا بِالنَّبْلِ، وَقَدْ كَفَفْتُ يَدِي مَا اسْتَطَعْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَاءُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ

اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے نقل فرماتے ہیں، یہ لفظ موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور عروہ کی حدیث اس کے ہم معنی ہے۔ فرماتے ہیں کہ بنو نفاثہ بنو دیل سے ہیں، انہوں نے بنو کعب پر حملہ کر دیا۔ یہ وہ مدت ہے جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان جنگ بندی تھی اور بنو کعب صلح میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل تھے اور بنو نفاثہ قریش کے حامی تھے۔ تو بنو بکر والوں نے بنو نفاثہ کی اسلحہ اور غلاموں سے مدد کی۔ انہوں نے قصہ ذکر کیا ہے۔
کہتے ہیں: بنو کعب کا ایک سوار رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اپنا قصہ رسول اللہ ﷺ کو سنایا اور قریش کا ان کے خلاف مدد کرنا ذکر کیا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا مکہ کی طرف آنے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو مر الظہران میں نبی ﷺ کے پاس لانے اور ان کے ساتھ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اور بدیل بن ورقاء کو لانے کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیان اور سیدنا حکیم رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو امان کی طرف دعوت دیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ قریش الگ ہو جائیں، لڑائی سے باز رہیں، کیا وہ امان میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو لڑائی سے باز رہا، اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا، اس کو امن ہے۔“ انہوں نے کہا: ہمیں بھیج دیں تاکہ ہم ان میں اعلان کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، جو ابوسفیان اور حکیم کے گھر میں بھی داخل ہو گیا اور لڑائی سے باز رہا اس کو بھی امن ہے۔“ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا گھر مکہ کی بالائی جانب تھا جبکہ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کا گھر نچلی سطح پر تھا۔ جب وہ دونوں جانے لگے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابوسفیان پر مطمئن نہیں کہ وہ اسلام سے نہ پلٹ جائے، آپ اس کو واپس کریں، وہ ہمارے پاس ٹھہرے اور آپ کے ساتھ لشکروں کو دیکھ لے۔ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں روک لیا۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنو ہاشم! کیا عذر ہے؟ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ جان لیں گے ہم دھوکا باز نہیں، لیکن مجھے آپ سے کام ہے، آپ صبح کریں اور اللہ کے لشکروں کا مشاہدہ کریں۔ پھر اس نے ابوسفیان کو روکنے کا قصہ ذکر کیا یہاں تک کہ لشکر گزرے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مہاجرین اور اپنے لشکر پر مقرر فرمایا، انہیں حکم فرمایا کہ وہ کداء کی جانب سے مکہ کی اوپر کی جانب سے داخل ہوں۔ آپ ﷺ نے اپنا جھنڈا دیا اور فرمایا: ”حجون نامی جگہ پر گاڑ دینا۔“ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس جگہ رہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بنو قضاعہ، بنو سلیم اور جو ان سے پہلے مسلمان ہوئے تھے کو روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ مکہ کی نچلی جانب سے داخل ہونا اور جھنڈے کو نچلی سطح کے قریبی گھروں کے پاس لگانے کا حکم دیا اور یہاں بنو بکر، بنو حارث بن عبد مناف، ہذیل اور کچھ دوسرے قبائل تھے۔ قریش نے ان سے مدد طلب کی اور مکہ کی نچلی جانب آنے کا کہا اور رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو انصاری لشکر اور اپنے ابتدائی حصہ پر مقرر فرمایا تھا اور حکم دیا کہ صرف اس سے لڑائی کرنا جو لڑنے کے لیے آئے اور چار افراد کے قتل کا حکم دیا: 1۔ عبداللہ بن سعد بن سرح، 2۔ حارث بن نقید، 3۔ ابن خطل، 4۔ مقیس بن صبابہ، اور ابن خطل کی دو گانے والی لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا جو رسول اللہ ﷺ کی مذمت کرتی تھیں۔ مختلف لشکر سیدنا ابوسفیان، بدیل اور سیدنا حکیم رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کے بارے میں سوال کرتے یہاں تک کہ انصاری لشکر جس کے امیر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے، تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو آواز دی: آج لڑائی کا دن ہے، آج تو حرم میں بھی لڑائی جائز ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ مہاجرین کے ساتھ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ وہ قتل کریں؟ کیونکہ سعد بن عبادہ اپنے لوگوں کے ساتھ میرے پاس سے گزرے تو آواز دے کر کہنے لگے کہ آج قتل کا دن ہے آج حرم میں بھی لڑائی جائز ہے اور میں آپ ﷺ کو اپنی قوم کے بارے میں خدا کا واسطہ دیتا ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے انصار و مہاجرین کا امیر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے حجون نامی جگہ پر جا کر رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا لگایا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ کی نچلی جانب سے داخل ہوئے تو بنو بکر نے ان سے لڑائی کی، وہ شکست کھا گئے۔ بنو بکر کے بیس افراد، ہذیل کے تین یا چار افراد مارے گئے۔ انہیں شکست ہوئی اور ان کی لڑائی مسجد کے دروازے تک جاری رہی اور ان کے بکھرے ہوئے افراد بھاگ گئے اور گھروں میں داخل ہو گئے اور ایک گروہ پہاڑ پر چڑھ گیا، جن کا مسلمانوں نے تلواروں کے ذریعے پیچھا کیا اور رسول اللہ ﷺ پہلے مہاجرین اور دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہوئے اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے مکہ میں داخل ہوتے وقت کہا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، لڑائی سے باز رہا وہ امن میں ہے، تو اس کی بیوی ہندہ بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ قوم کے سردار کا برا کرے اور ساتھ ہی اس کے کنبے کا، اور ابوسفیان کی داڑھی پکڑ کر اونچی آواز دی: اے آل غالب! اس احمق بوڑھے کو قتل کر دو، کیا تم نے لڑائی اور دفاع کیا اپنی جانوں اور شہروں سے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: افسوس ہے تجھ پر، خاموش ہو جا اور گھر میں داخل ہو جا، وہ تو ایسی مخلوق لے کر آئے ہیں (جس کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے) اور جب رسول اللہ ﷺ ثنیہ کے راستہ پر آئے تو آپ ﷺ نے اسلحہ کی چمک پہاڑ پر دیکھی، مشرکین کے بکھرے ہوئے افراد سے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا میں نے لڑائی سے منع نہ کیا تھا؟“ تو مہاجرین نے کہا: ہمارا گمان ہے کہ خالد بن ولید قتال میں مصروف ہیں، کیونکہ لگتا ہے ان کو قتال پر مجبور کیا گیا، وگرنہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی نافرمانی اور مخالفت نہ کرتے۔ رسول اللہ ﷺ ثنیہ سے اترے تو حجون مقام پر ٹھہرے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے قصہ ذکر کیا ہے۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے لڑائی کیوں کی جبکہ میں نے تجھے منع کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا کہ لڑائی کی ابتدا انہوں نے کی، اسلحہ کا استعمال شروع کیا اور ہمیں تیر مارے، میں نے حتی الوسع لڑائی سے گریز کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا فیصلہ بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18281
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»