السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فتح مكة حرسها الله تعالى باب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ يَلْتَمِسُونَ الْخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلُوا يَسِيرُونَ حَتَّى أَتَوْا مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَإِذَا هُمْ بِنِيرَانٍ كَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: مَا هَذِهِ؟ لَكَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ. فَقَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ: نِيرَانُ بَنِي عَمْرٍو. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ. فَرَآهُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكُوهُمْ فَأَخَذُوهُمْ، وَأَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْيَانَ، فَلَمَّا سَارَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ: " احْبِسْ أَبَا سُفْيَانَ عِنْدَ حَطْمِ الْخَيْلِ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ ". فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَمُرُّ كَتِيبَةً كَتِيبَةً عَلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَمَرَّتْ كَتِيبَةٌ، قَالَ: يَا عَبَّاسُ مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: هَذِهِ غِفَارُ. قَالَ: مَا لِي وَلِغِفَارَ. ثُمَّ مَرَّتْ جُهَيْنَةُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ هُذَيْمٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَرَّتْ سُلَيْمٌ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى أَقْبَلَتْ كَتِيبَةٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا، قَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ، عَلَيْهِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَهُ الرَّايَةُ. فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا أَبَا سُفْيَانَ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ. فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا عَبَّاسُ حَبَّذَا يَوْمُ الذِّمَارِ. ثُمَّ جَاءَتْ كَتِيبَةٌ وَهِيَ أَقَلُّ الْكَتَائِبِ فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَرَايَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟ قَالَ: " مَا قَالَ؟ " قَالَ: قَالَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: " كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ ". قَالَ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْكَزَ رَايَتُهُ بِالْحَجُونِ. قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ هَهُنَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْكِزَ الرَّايَةَ. قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ مِنْ كُدَى، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَدَاءَ، فَقُتِلَ مِنْ خَيْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ يَوْمَئِذٍ رَجُلَانِ، حُبَيْشُ بْنُ الْأَشْعَرِ، وَكُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِهْرِيُّ. ⦗٢٠٢⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ فتح (مکہ) کے سال جب رسول اللہ ﷺ (مکہ کی طرف) چلے تو قریش کو (اس کی) خبر ہوگئی۔ ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ ﷺ کے بارے میں خبر کی تلاش میں نکلے، وہ چلتے ہوئے مر الظہران نامی مقام پر پہنچے تو اچانک وہاں (لشکر کی) آگ دیکھی، گویا کہ وہ عرفہ کی آگ ہے۔ ابوسفیان کہنے لگے: ”یہ کیا ہے؟ گویا کہ یہ (عرفہ کی) آگ ہے۔“ تو بدیل نے کہا: ”یہ بنو عمرو کی آگ ہے۔“ ابوسفیان نے کہا: ”بنو عمرو کی تعداد تو اس سے کہیں کم ہے۔“ اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پہرے داروں نے انہیں دیکھ لیا اور پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے۔ جب آپ ﷺ (وہاں سے آگے) چلے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”(اے اللہ کے رسول!) ابوسفیان کو پہاڑ کی بلندی پر روک لیجیے تاکہ وہ مسلمانوں (کے لشکر) کو دیکھ سکیں۔“ چنانچہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو روک لیا، تو مختلف قبیلے نبی کریم ﷺ کے سامنے سے گزرنے لگے۔ وہ دستوں کی شکل میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو وہ پوچھتے: ”یہ کون ہیں؟“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے: ”یہ غفار قبیلہ ہے۔“ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے: ”مجھے غفار سے کیا واسطہ؟“ پھر جہینہ کے لوگ گزرے تو انہوں نے پھر اسی طرح کہا، پھر بنو سعد بن ہذیم گزرے تو انہوں نے ویسی ہی بات کہی، پھر بنو سلیم گزرے تو وہی بات کہی۔ پھر ایک بہت بڑا لشکر آیا تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ انصار ہیں جن کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے۔“ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے (ابوسفیان کو دیکھ کر) کہا: ”اے ابوسفیان! آج لڑائی کا دن ہے، آج حرم میں (قتال) حلال کر دیا جائے گا۔“ تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”اے عباس! آج بہادری اور غصہ اتارنے کا دن ہے۔“ پھر ایک چھوٹا دستہ آیا جس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے اور نبی ﷺ کا جھنڈا سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”کیا آپ کو معلوم ہے جو سعد بن عبادہ نے کہا ہے؟“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس نے کیا کہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”فلاں فلاں بات۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سعد نے غلط کہا ہے، بلکہ آج وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کعبہ کی تعظیم بڑھائے گا اور آج کے دن کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جھنڈا (ایک مقام پر) گاڑ دیا جائے، میں اسے (مقامِ) حجون میں دیکھ رہا ہوں۔
(ب) جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ: ”اے ابوعبداللہ! کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو (یہی) حکم دیا ہے کہ جھنڈا یہاں گاڑ دیں؟“
راوی کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو 'کداء' کی جانب سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور خود نبی کریم ﷺ 'کدیٰ' کی جانب سے داخل ہوئے، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری (رضی اللہ عنہما) شہید کر دیے گئے۔