السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فتح مكة حرسها الله تعالى باب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ قَالَ الْعَبَّاسُ: قُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْتَأْمِنُوهُ إِنَّهُ لَهَلَاكُ قُرَيْشٍ. فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لَعَلِّي أَجِدُ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي أَهْلَ مَكَّةَ فَيُخْبِرُهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجُوا إِلَيْهِ فَيَسْتَأْمِنُوهُ، وَإِنِّي لَأَسِيرُ سَمِعْتُ كَلَامَ أَبِي سُفْيَانَ وَبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَنْظَلَةَ، فَعَرَفَ صَوْتِي، قَالَ: أَبُو الْفَضْلِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: مَا لَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قُلْتُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ. قَالَ: فَمَا الْحِيلَةُ؟ ⦗٢٠١⦘ قَالَ: فَرَكِبَ خَلْفِي وَرَجَعَ صَاحِبُهُ فَلَمْ أُصْبِحْ غَدَوْتُ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا. قَالَ: " نَعَمْ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ ". قَالَ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى دُورِهِمْ وَإِلَى الْمَسْجِدِ.حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مرالظہران پر پڑاؤ کیا تو عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں زبردستی داخل ہو گئے، اس سے پہلے کہ وہ آپ ﷺ کے پاس آ کر امان طلب کر لیں، تو یہ قریشیوں کی ہلاکت ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر پر بیٹھ گیا اور میں نے (دل میں) کہا: شاید مجھے کوئی ضرورت مند مل جائے جو مکہ والوں کے پاس جائے اور انھیں رسول اللہ ﷺ کی جگہ کی خبر دے تاکہ وہ نکل کر آپ ﷺ کے پاس آئیں اور امان کی درخواست کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے چلتے ہوئے ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی بات چیت کو سنا۔ میں نے کہا: اے ابوحنظلہ! اس نے میری آواز کو پہچان لیا۔ اس نے کہا: ابوالفضل؟ میں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا بات ہے؟ میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ اس نے کہا: تو اب کیا تدبیر ہے؟ کہتے ہیں: وہ میرے پیچھے سوار ہوئے اور اس کا ساتھی چلا گیا اور میں صبح انھیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا تو انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان ایسا شخص ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے، آپ اس کے لیے جو مقرر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ابوسفیان کے گھر داخل ہوگیا اور اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا یا مسجد میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے“۔ راوی کہتے ہیں: لوگ اپنے گھروں اور مسجد میں بکھر گئے۔