حدیث نمبر: 18274
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَأَحَاطُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. فَقَالَ: " مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن رباح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ انصاری لوگوں نے صفا پہاڑی کے قریب نبی کریم ﷺ کو گھیر لیا۔ ابوسفیان آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کی نسل ختم ہو جائے گی، آپ کے بعد قریش نہ رہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے اس کو امن ہے، جو ہتھیار پھینک دے اسے بھی امن ہے اور جو اپنے گھر میں داخل ہو جائے اور دروازہ بند کر لے اس کو بھی امن ہے۔“
(ب) یحییٰ بن حسان حضرت حماد سے یہی نقل فرماتے ہیں، لیکن «مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ» ”جو اپنے گھر میں داخل ہوا اسے امن ہے“ کا قول ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18274
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»