السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فتح مكة حرسها الله تعالى باب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ سَرَّحَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْخَيْلِ، وَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ ". قَالَ: " اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ فَلَا يُشْرِفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَمْتُمُوهُ ". فَنَادَى مُنَادٍ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. فَقَالَ ⦗٢٠٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ ". وَعَمَدَ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَدَخَلُوا الْكَعْبَةَ فَغُصَّ بِهِمْ وَطَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ، ثُمَّ أَخَذَ بِجَنْبَيِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، زَادَ فِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ مِسْكِينٍ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْكَعْبَةَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: " مَا تَقُولُونَ وَمَا تَظُنُّونَ "؟ قَالُوا: نَقُولُ: ابْنُ أَخٍ وَابْنُ عَمٍّ حَلِيمٌ رَحِيمٌ. قَالَ: وَقَالُوا ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقُولُ كَمَا قَالَ يُوسُفُ: {لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} [يوسف: ٩٢]. قَالَ: فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ..عبداللہ بن رباح انصاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو زبیر بن عوام، ابو عبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو لشکر پر روانہ فرمایا اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ! انصار کو آواز دو کہ تم اس راستہ پر چلو۔“
تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے گھر میں داخل ہو گیا اس کو امان ہے۔ جس نے ہتھیار پھینک دیے اس کو بھی امن ہے“ تو قریشی سردار کعبہ میں داخل ہو گئے اور کعبہ ان سے بھر گیا۔ نبی ﷺ نے طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔ پھر آپ ﷺ نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا تو انہوں نے نکل کر نبی ﷺ کی اسلام پر بیعت کی۔ (ب) قاسم بن سلام بن مسکین اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کعبہ میں آئے اور دروازے کی چوکھٹ کے دو بازوؤں کو پکڑا اور فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو، تمہارا کیا گمان ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے ہیں: بھتیجا اور چچے کا بیٹا بردبار رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے کہی تھی: ﴿قَالَ لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 92] ”فرمايا: تمہارے اوپر کوئی سرزنش نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ نکلے جیسے قبروں سے اٹھائے گئے ہوں اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔