حدیث نمبر: 18273
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ، فَقُلْتُ: أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا وَأَدْعُوهُمْ إِلَى رَحْلِي؟ فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ، ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ، فَقُلْتُ: الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ. قَالَ: سَبَقْتَنِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ حَدِيثًا مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ فَقَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ فَنَظَرَ فَرَآنِي، فَقَالَ: " أَبُو هُرَيْرَةَ " قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: فَنَدَبَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ: " لَا يَأْتِينَا إِلَّا أَنْصَارِيٌّ " فَأَطَافُوا بِهِ، زَادَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: فَقَالَ: " اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ وَلَا تَأْتِنِي إِلَّا بِأَنْصَارِيٍّ ". قَالَ: فَفَعَلْتُهُ. قَالَ شَيْبَانُ فِي رِوَايَتِهِ: وَأَوْبَشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا: نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ "؟ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ قَالَ: حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا. زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: " احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ". قَالَ شَيْبَانُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: وَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ، وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. قَالَ: " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ". زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: " مَنْ ⦗١٩٨⦘ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ ".⦗١٩٩⦘ قَالَ شَيْبَانُ فِي رِوَايَتِهِ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرَابَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَا يَخْفَى عَلَيْنَا، فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ، فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ". قَالُوا: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: " قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرَابَتِهِ ". قَالُوا: قَدْ كَانَ ذَاكَ. قَالَ: " كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ". فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ يَقُولُونَ: وَاللهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ". فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ، وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ فَأَتَى إِلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ. قَالَ: وَفِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعَنُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: ٨١]، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَذَكَرَ اللَّفْظَةَ الَّتِي زَادَهَا أَبُو دَاوُدَ..
حافظ ثناء اللہ

عبد اللہ بن رباح، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماہِ رمضان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس وفد آتے تو ہم ایک دوسرے کے لیے کھانا بنایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر ہمیں اپنے گھر دعوت دیا کرتے تھے۔ میں نے کہا: کیا میں کھانا پکوا کر انھیں اپنے گھر میں دعوت نہ دوں؟ میں نے کھانا بنوایا۔ شام کے وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو کہا: رات کے کھانے کی دعوت میرے پاس ہوگی۔ انہوں نے کہا: آپ مجھ سے سبقت لے گئے۔ میں نے کہا: ہاں۔ میں نے ان کو دعوت دی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اے انصاریو! کیا میں تمہاری باتوں میں سے کوئی بات تمہیں نہ سکھاؤں؟“ پھر انہوں نے فتحِ مکہ کا تذکرہ کیا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو لشکر کی ایک جانب اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دوسری جانب بھیجا اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حسر پر۔ انہوں نے وادی کے نشیب میں پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ اپنے قافلہ میں تھے۔ آپ ﷺ نے نظر دوڑائی تو مجھے دیکھا اور فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔“ آپ ﷺ نے انصار کو دعوت دی اور فرمایا کہ ”میرے پاس صرف انصاری آئیں“ تو انہوں نے آپ ﷺ کو گھیر لیا۔ ابو داؤد نے یہ لفظ زائد بیان کیے ہیں کہ ”انصار کو بلاؤ، صرف انصاری میرے پاس آئیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کام کیا۔
شیبان کی روایت میں ہے کہ قریش کے اوباش لوگ تیزی سے ان کے پیچھے چلے اور انہوں نے کہا کہ ہم ان سے آگے بڑھ جائیں گے۔ اگر ان کو کوئی چیز حاصل ہوئی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا کیے گئے تو ہم وہ چیز عطا کر دیں گے جس کا ہم سے سوال کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”تم قریش کے اوباش لوگوں اور ان کے پیچھے چلنے والوں کی طرف دیکھو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے فرمایا کہ ”تم مجھے صفا پہاڑی پر ملنا۔“
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ ”تم ان کو کاٹ ڈالو۔“
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ جب ہم چلے تو جس کو چاہتے قتل کر دیتے، کوئی چیز ہمارے سامنے رکاوٹ نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کی اصل ختم ہو جائے گی۔ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کے گھر داخل ہو گیا وہ امن میں ہے۔“
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے۔ ”جو اسلحہ ڈال دے وہ بھی حالتِ امن میں ہے۔“
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ کسی شخص کو اپنی بستی میں رغبت اور اپنے خاندان کے ساتھ الفت ہو جاتی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وحی آ گئی۔ جب وحی آتی تو ہم سے پوشیدہ نہ رہتی۔ جب وحی آتی تو کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی نظر نہ اٹھاتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہو جائے۔ جب وحی مکمل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصاریو!“ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! حاضر ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”تم نے کہا کہ کوئی شخص اپنی بستی میں آئے تو اس کو رغبت ہو ہی جاتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! یہ بات ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول «عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ» ہوں۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میری زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہے۔“ وہ آپ ﷺ کی طرف روتے ہوئے متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! جو ہم نے کہا، صرف گمان تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔“ لوگ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے دروازے بند کر لیے۔ رسول اللہ ﷺ حجرِ اسود کے پاس آئے۔ اس کا استلام کیا۔ بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر بیت اللہ کی ایک طرف بت کے پاس آئے، جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ جب آپ ﷺ کسی بت کے پاس آتے تو وہ کمان اس کی آنکھ پر مارتے اور فرماتے: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔“ جب آپ ﷺ طواف سے فارغ ہوئے تو صفا پہاڑی کے اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نظر بیت اللہ پر پڑی۔ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18273
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٧٧٠»