السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المشركين يسلمون قبل الأسر وما على الإمام وغيره من التثبت إذا تكلموا بما يشبه الإقرار بالإسلام ويشبه غيره باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: أَتَيْنَا نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ، فَقَالَ نَصْرٌ: ثنا ⦗١٩٧⦘ عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ، وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ، فَشَذَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ مَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرٌ، فَقَالَ الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيهِ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا، فَقَالَ الْقَاتِلُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثَلَاثًا، فَأَعَادَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَى مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا " قَالَهَا ثَلَاثًا. تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ.سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (میں بھی اس گروہ میں تھا) رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا، انہوں نے ایک قوم پر حملہ کر دیا تو قوم سے ایک فرد الگ ہو گیا تو لشکر کے ایک فرد نے اس کا پیچھا کیا جس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی، قوم سے الگ ہونے والے فرد نے کہا: میں مسلمان ہوں، اس نے اس کا خیال نہ کیا اور اسے قتل کر دیا، جب بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں سخت بات کہی تو قاتل نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے قتل سے بچنے کی غرض سے یہ بات کہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا اور یہی بات دہرائی، آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو ناراضگی آپ ﷺ کے چہرے سے پہچانی جا سکتی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت اس شخص پر انکار کرتے ہیں جو کسی مومن کو قتل کرتا ہے“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔