السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المشركين يسلمون قبل الأسر وما على الإمام وغيره من التثبت إذا تكلموا بما يشبه الإقرار بالإسلام ويشبه غيره باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
حدیث نمبر: 18271
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيِّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ، وَذَلِكَ أَوَّلُ عِيرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْعِيرَ "؟ يُرِيدُ الدِّيَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ؟ اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ " بِصَوْتٍ عَالٍ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.حافظ ثناء اللہ
زیاد بن سعد بن ضمیرہ سلمی، عروہ بن زبیر کو اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اشجع کے ایک فرد کو اسلام میں قتل کر دیا۔ یہ پہلی دیت تھی جس کا رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عیینہ! کیا آپ دیت قبول نہیں کریں گے؟“ راوی کہتے ہیں کہ اس کے آخر میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا؟“ پھر آپ ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ» ”اے اللہ! تو محلم کو معاف نہ کر۔“