حدیث نمبر: 18270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗١٩٦⦘ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَاهُ وَجَدَّهُ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ، وَكَانَ قَتَلَهُ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ، فَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِيِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ؛ لِأَنَّهُ مِنْ قَيْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ؛ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ خِنْدِفَ، فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ يَقُولُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنَ الْحَرِّ مَا أَذَاقَ نِسَائِي. وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا "، وَهُوَ يَأْبَى، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ مَجْمُوعٌ قَصِيرٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَعِيرٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أُولَاهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا، اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا. فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: " تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا "، فَقَبِلَهَا الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: " ائْتُوا بِصَاحِبِكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا بِهِ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ ضَرَبَ عَلَيْهِ حُلَّةً لَهُ قَدْ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " مَا اسْمُكَ؟ " فَقَالَ: مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ ". ثُمَّ قَالَ لَهُ: " قُمْ "، فَقَامَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ، فَأَمَّا نَحْنُ فِيمَا بَيْنَنَا فَنَقُولُ: إِنَّا لَنَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَلَكِنْ أَظْهَرَ هَذَا لِيَنْزِعَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، فَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ..
حافظ ثناء اللہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اور دادا نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں موجود تھے۔ دونوں رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے تو اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا جھگڑا لے کر آگئے، جسے محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ وہ قیس سے تھے اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کر رہے تھے کیونکہ وہ ان دنوں قبیلہ خندف کے سردار تھے۔ ہم نے عیینہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں اس کی عورتوں کو غم پہنچاؤں جو میری عورتوں نے غم پایا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں حاصل کرلو اور پچاس جب ہم واپس پلٹیں گے تب لے لینا۔“ لیکن وہ انکار کر رہا تھا، تو بنو لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جس کو مکتل کہا جاتا تھا، وہ چھوٹے قد کا تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس مقتول کے لیے میں کچھ نہیں پاتا مگر اونٹوں کے اس قافلے کی مثل جس کے پہلے کو پھینک دیا جائے اور آخری کو بھگا دیا جائے۔ آج چھری تیز کی جائے اور کل ذبح کردیا جائے۔“
رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔“ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا: تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ، لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ» ”اے اللہ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا: ”کھڑا ہوجا۔“ وہ کھڑا ہوا تو اس نے اپنے خون کو پایا کہ چادر کے زائد حصے کو لگا ہوا ہے اور ہمارے درمیان یہ باتیں ہو رہی تھیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے بخشش کی دعا کردیں گے، لیکن آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ چیز لوگوں کے درمیان جھگڑے کا باعث بنے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18270
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»