السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المشركين يسلمون قبل الأسر وما على الإمام وغيره من التثبت إذا تكلموا بما يشبه الإقرار بالإسلام ويشبه غيره باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗١٩٦⦘ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَاهُ وَجَدَّهُ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ، وَكَانَ قَتَلَهُ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ، فَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِيِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ؛ لِأَنَّهُ مِنْ قَيْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ؛ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ خِنْدِفَ، فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ يَقُولُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنَ الْحَرِّ مَا أَذَاقَ نِسَائِي. وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا "، وَهُوَ يَأْبَى، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ مَجْمُوعٌ قَصِيرٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَعِيرٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أُولَاهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا، اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا. فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: " تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا "، فَقَبِلَهَا الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: " ائْتُوا بِصَاحِبِكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا بِهِ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ ضَرَبَ عَلَيْهِ حُلَّةً لَهُ قَدْ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " مَا اسْمُكَ؟ " فَقَالَ: مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ ". ثُمَّ قَالَ لَهُ: " قُمْ "، فَقَامَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ، فَأَمَّا نَحْنُ فِيمَا بَيْنَنَا فَنَقُولُ: إِنَّا لَنَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَلَكِنْ أَظْهَرَ هَذَا لِيَنْزِعَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، فَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ..زیاد بن ضمیرہ بن سعد سلمی، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اور دادا نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں موجود تھے۔ دونوں رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے تو اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا جھگڑا لے کر آگئے، جسے محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ وہ قیس سے تھے اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کر رہے تھے کیونکہ وہ ان دنوں قبیلہ خندف کے سردار تھے۔ ہم نے عیینہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں اس کی عورتوں کو غم پہنچاؤں جو میری عورتوں نے غم پایا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں حاصل کرلو اور پچاس جب ہم واپس پلٹیں گے تب لے لینا۔“ لیکن وہ انکار کر رہا تھا، تو بنو لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جس کو مکیتل کہا جاتا تھا، وہ گٹھے ہوئے جسم اور چھوٹے قد کا تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس مقتول کے لیے میں کچھ نہیں پاتا مگر اونٹوں کے اس قافلے کی مثل جو پانی پر آیا تو اس کے پہلے اونٹ کو تیر مارا گیا اور آخری اونٹ بدک کر بھاگ گئے۔ آج طریقہ مقرر کر دیجیے اور کل بدل دیجیے۔“
رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔“ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا: تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ، لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: محلم بن جثامہ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ» ”اے اللہ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا: ”کھڑا ہوجا۔“ وہ کھڑا ہوا تو اپنی چادر کے زائد حصے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔ ہم آپس میں کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے بخشش کی دعا کر دی ہوگی، لیکن آپ ﷺ نے یہ اس لیے ظاہر فرمایا تاکہ لوگ ایک دوسرے (پر زیادتی) سے باز آ جائیں۔ رہی وہ بات جو رسول اللہ ﷺ سے ظاہر ہوئی تو وہ یہی تھی۔