السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المشركين يسلمون قبل الأسر وما على الإمام وغيره من التثبت إذا تكلموا بما يشبه الإقرار بالإسلام ويشبه غيره باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
حدیث نمبر: 18269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَرَآهُمْ رَجُلٌ وَهُوَ فِي جَبَلٍ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ فَفِيهِ نَزَلَتْ: {وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [النساء: ٩٤]، وَالرَّجُلُ الَّذِي قَتَلُوهُ عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيُّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک لشکر میں تھا کہ انہیں پہاڑ سے ایک شخص نے دیکھا تو ان کے پاس آ کر سلام کیا، انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کر دیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة النساء: 94] ”اور تم نہ کہو ایسے شخص کو جو تمہیں سلام کہتا ہے کہ تم مومن نہیں تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔“ کہ وہ شخص جسے انہوں نے قتل کیا وہ عامر بن اضبط تھا۔