حدیث نمبر: 18264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبَانُ، قَالَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا ثَقِيفًا ⦗١٩٣⦘ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِكَ صَخْرٌ رَكِبَ فِي خَيْلٍ يَمُدُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يَفْتَحْ، فَجَعَلَ صَخْرٌ حِينَئِذٍ عَهْدَ اللهِ وَذِمَّتَهُ أَنْ لَا يُفَارِقَ هَذَا الْقَصْرَ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُفَارِقْهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَخْرٌ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ ثَقِيفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي خَيْلٍ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَدَعَا لِأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ: " اللهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا ". وَأَتَاهُ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِي وَدَخَلَتْ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ. فَدَعَاهُ فَقَالَ: " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْمُغِيرَةِ عَمَّتَهُ ". فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَسَأَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِبَنِي سُلَيْمٍ قَدْ هَرَبُوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَتَرَكُوا ذَاكَ الْمَاءَ؟ " فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْزِلْنِيهِ أَنَا وَقَوْمِي. قَالَ: " نَعَمْ ". فَأَنْزَلَهُ وَأَسْلَمَ يَعْنِي السُّلَمِيِّينَ، فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِمُ الْمَاءَ فَأَبَى، فَأَتَوْا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَسْلَمْنَا وَأَتَيْنَا صَخْرًا لِيَدْفَعَ إِلَيْنَا مَاءَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْقَوْمِ مَاءَهُمْ ". قَالَ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ عِنْدَ ذَلِكَ حُمْرَةً؛ حَيَاءً مِنْ أَخْذِهِ الْجَارِيَةَ وَأَخْذِهِ الْمَاءَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالِاسْتِدْلَالُ وَقَعَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ ". فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَاءِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَكَهُ بِتَمْلِيكِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ فَإِنَّهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ بِاسْتِطَابَةِ نَفْسِهِ، وَلِذَلِكَ كَانَ يَظْهَرُ فِي وَجْهِهِ أَثَرُ الْحَيَاءِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ، فَإِنْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الْأَخْذِ فَكَأَنَّهُ رَأَى إِسْلَامَهَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ يُحْرِزُ مَالَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ الْأَخْذِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَصَخْرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ الْعَيْلَةِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ. وَرُوِيَ فِي قِصَّةِ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ مَا دَلَّ عَلَيْهِ ظَاهِرُ قِصَّةِ عَمَّةِ الْمُغِيرَةِ، فَإِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ: " أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا أَهْلُكَ فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ ". قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ ابْنَهُ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَهْلِ الْغَنِيمَةِ كَمَا فَعَلَ فِي سَبْيِ هَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَهْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِيبِهِمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ

عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو ثقیف کے خلاف غزوہ کیا، صخر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو وہ نبی ﷺ کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی ﷺ (فتح کے بغیر) واپس ہو گئے ہیں تو صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر نہ اتر آئیں“۔ بالآخر وہ نبی ﷺ کے حکم پر اتر پڑے تو صخر رضی اللہ عنہ نے (آپ ﷺ کو) لکھا: ”حمد و ثنا کے بعد! اے اللہ کے رسول! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلے کی صورت میں آ رہے ہیں“۔ آپ ﷺ نے پکارنے کا حکم دیا: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز جمع کرنے والی ہے (یعنی سب جمع ہو جائیں)“، پھر آپ ﷺ نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں: ”اے اللہ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت عطا فرما“۔ جب لوگ آئے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صخر رضی اللہ عنہ نے میری پھوپھی کو قید کر لیا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ مسلمان ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو“۔ صخر رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس کر دیا اور بنو سلیم کے ان چشموں کے متعلق سوال کیا جن کے مالک اسلام سے بھاگ گئے تھے اور پانی چھوڑ گئے تھے کہ آپ ﷺ وہ مجھے اور میری قوم کو عطا فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آ گئے، انہوں نے صخر رضی اللہ عنہ سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ہم نے صخر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کر دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا آپ ان کے پانی واپس کر دیں“۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ٹھیک ہے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا کیونکہ آپ ﷺ نے ان سے لونڈی اور پانی دونوں واپس لیے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کی مالک بن گئی تھی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18264
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»