السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الحربي يدخل بأمان وله مال في دار الحرب ثم يسلم أو يسلم في دار الحرب باب: حربی کافر جو امان لے کر آئے اور دار الحرب میں اس کا مال موجود ہو، پھر وہ اسلام لے آئے یا دار الحرب میں ہی اسلام لے آئے (تو اس کے مال کا حکم)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْظَةَ أَنَّهُ قَالَ: هَلْ تَدْرِي عَمَّ كَانَ إِسْلَامُ ثَعْلَبَةَ وَأُسَيْدٍ ابْنَيْ سَعْيَةَ، وَأَسَدِ بْنِ عُبَيْدٍ نَفَرٌ مِنْ هُدَلَ لَمْ يَكُونُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ وَلَا نَضِيرٍ كَانُوا فَوْقَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: فَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ مِنْ يَهُودَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْهَيْبَانِ فَأَقَامَ عِنْدَنَا، وَاللهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا قَطُّ لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ خَيْرًا مِنْهُ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا قَبْلَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَتَيْنِ، فَكُنَّا إِذَا قَحَطْنَا وَقَلَّ عَلَيْنَا الْمَطَرُ نَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ الْهَيْبَانِ اخْرُجْ فَاسْتَسْقِ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ حَتَّى تُقَدِّمُوا أَمَامَ مَخْرَجِكُمْ صَدَقَةً، فَنَقُولُ: كَمْ نُقَدِّمُ؟ فَيَقُولُ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى ظَاهِرَةِ حَرَّتِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَسْتَسْقِي، فَوَاللهِ مَا يَقُومُ مِنْ مَجْلِسِهِ حَتَّى تُمَرَّ الشِّعَابُ، قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ لَا مَرَّتَيْنِ وَلَا ثَلَاثَةً، فَحَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ مَا تَرَوْنَهُ أَخْرَجَنِي مِنْ أَرْضِ الْخَمْرِ وَالْخَمِيرِ إِلَى أَرْضِ الْبُؤْسِ وَالْجُوعِ؟ فَقُلْنَا: أَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّهُ إِنَّمَا أَخْرَجَنِي أَتَوَقَّعُ خُرُوجَ نَبِيٍّ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُهُ، هَذِهِ الْبِلَادُ مُهَاجَرُهُ، فَأَتَّبِعُهُ فَلَا تُسْبَقُنَّ إِلَيْهِ إِذَا خَرَجَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، فَإِنَّهُ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَيَسْبِي الذَّرَارِيَّ وَالنِّسَاءَ مِمَّنْ خَالَفَهُ، فَلَا يَمْنَعْكُمْ ذَلِكَ مِنْهُ. ثُمَّ مَاتَ، فَلَمَّا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي افْتُتِحَتْ فِيهَا قُرَيْظَةُ قَالَ أُولَئِكَ الْفِتْيَةُ الثَّلَاثَةُ، وَكَانُوا شُبَّانًا أَحْدَاثًا: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ لَلَّذِي كَانَ ذَكَرَ لَكُمُ ابْنُ الْهَيبَانِ. قَالُوا: مَا هُوَ؟ قَالُوا: بَلَى وَاللهِ لَهُوَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، إِنَّهُ وَاللهِ لَهُوَ لِصِفَتِهِ. ثُمَّ نَزَلُوا فَأَسْلَمُوا وَخَلَّوْا أَمْوَالَهَمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَهَالِيَهُمْ. قَالَ: وَكَانَتْ أَمْوَالُهُمْ فِي الْحِصْنِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا فُتِحَ رُدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ".عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ثعلبہ اور اسید رضی اللہ عنہما جو سعیہ کے بیٹے تھے اور اسد بن عبید رضی اللہ عنہ، جو بنو ہدل کے چند افراد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر سے نہ تھے بلکہ ان سے بڑھ کر تھے، ان کے اسلام لانے کا سبب کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس شام سے یہود کا ایک شخص آیا، اسے ابن ہیبان کہا جاتا تھا۔ اس نے ہمارے پاس قیام کیا۔ اللہ کی قسم! ہم نے پانچ نمازیں نہ پڑھنے والوں میں اس سے بہتر کوئی شخص کبھی نہیں دیکھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے دو سال پہلے آیا۔ جب ہم قحط سالی کا شکار ہوتے اور بارش کم ہوتی تو ہم کہتے: اے ابن ہیبان! چلو ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔ وہ کہتا: اللہ کی قسم! نہیں، جب تک تم نکلنے سے پہلے صدقہ نہ کرو۔ ہم پوچھتے کتنا صدقہ کریں؟ وہ کہتا کہ ایک صاع کھجور یا دو مد جو۔ پھر وہ ہمارے حرہ (پتھریلی زمین) کے کھلے حصے کی طرف نکلتا، ہم بھی ساتھ ہوتے اور وہ بارش کی دعا کرتا۔ اللہ کی قسم! وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھتا کہ گھاٹیاں بہنے لگتیں۔ یہ کام اس نے کئی مرتبہ کیا، دو یا تین مرتبہ نہیں۔ اس کی موت کا وقت آ گیا تو ہم اس کے پاس جمع ہو گئے۔ اس نے کہا: اے یہود کا گروہ! تمہارا کیا خیال ہے کہ کس چیز نے مجھے شراب اور خمیری روٹی کی سرزمین سے تنگی اور بھوک کی سرزمین کی طرف نکالا؟ ہم نے کہا: آپ زیادہ جانتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے صرف اس بات نے نکالا کہ میں ایک نبی کے ظہور کا منتظر ہوں جس کا زمانہ قریب آ چکا ہے، یہ شہر اس کی ہجرت گاہ ہے، تاکہ میں اس کی پیروی کروں۔ تو اے یہود کا گروہ! جب اس کا ظہور ہو تو کوئی تم سے پہلے اس تک نہ پہنچ جائے، کیونکہ وہ اپنے مخالفوں کا خون بہائے گا اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنائے گا، تو یہ چیز تمہیں اس (کی پیروی) سے نہ روکے۔ پھر وہ فوت ہو گیا۔ جس رات بنو قریظہ فتح ہوئے، ان تینوں نوجوانوں نے، جو کم عمر جوان تھے، کہا: اے یہود کا گروہ! یہ وہی ہے جس کا ذکر ابن ہیبان نے تم سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: یہ وہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! اے یہود کا گروہ! یہ وہی ہے، اللہ کی قسم! یہ اپنی صفات کے مطابق وہی ہے۔ پھر وہ (قلعے سے) اترے اور اسلام قبول کر لیا اور اپنے مال، اولاد اور گھر والوں کو چھوڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں: ان کے مال قلعہ میں مشرکین کے پاس تھے، جب فتح ہوئی تو ان کو واپس کر دیے گئے۔