السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المشركين يسلمون قبل الأسر وما على الإمام وغيره من التثبت إذا تكلموا بما يشبه الإقرار بالإسلام ويشبه غيره باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا فَيَّاضٌ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، أَحْسَبُهُ قَالَ: إِلَى بَنِي جُذَيْمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَقَالُوا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: ثُمَّ دَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَنَا فَقَالَ لِيَقْتُلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ أَسِيرَهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ. قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو خزیمہ کی طرف بھیجا تو خالد نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے اچھا کلام نہ کیا کہ وہ کہتے کہ ہم مسلمان ہو گئے بلکہ انھوں نے کہا: ہم بے دین ہو گئے، تو خالد نے انھیں قتل کیا اور قیدی بنائے۔ کہتے ہیں: پھر ہر شخص کو اس کا قیدی دے دیا گیا تو ایک صبح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اپنے قیدی قتل کر دو تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہ تو میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی، تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ بلند کر کے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» ”اے اللہ! میں اس سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔“