حدیث نمبر: 18262
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَسْلَمَ ابْنَا سَعْيَةَ الْقُرَظِيَّانِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَاصِرٌ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَحْرَزَ لَهُمَا إِسْلَامُهُمَا أَنْفُسَهُمَا وَأَمْوَالَهُمَا مِنَ النَّخْلِ وَالْأَرْضِ وَغَيْرِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”سعیہ قرظی کے دونوں بیٹے اس وقت اسلام لائے جب رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو ان کے اسلام نے ان کی جانوں اور ان کے مالوں، یعنی کھجور کے باغات، زمین اور دیگر چیزوں کو محفوظ کر دیا۔“

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ، حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ

نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے نبی ﷺ سے جنگ کی تو نبی ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، لیکن بعد میں بنو قریظہ نے آپ ﷺ سے لڑائی کی۔ آپ ﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں، مال اور اولاد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ لیکن جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل گئے آپ ﷺ نے ان کو پناہ بھی دی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18262
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»