السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من أسلم على شيء فهو له باب: جو شخص کسی چیز پر (قبضہ رکھتے ہوئے) اسلام لے آئے تو وہ اسی کی ہے۔
حدیث نمبر: 18261
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ: " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَعَبِيدِهِمْ وَدِيَارِهِمْ وَأَرْضِهِمْ وَمَاشِيَتِهِمْ لَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اہل ذمہ سے فرمایا: ”ان کے لیے ہے جس پر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مال، غلام، گھر، زمین اور مویشی وغیرہ۔ ان کے ذمہ صرف زکوٰۃ ہے۔“