السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من فرق بين وجوده قبل القسم وبين وجوده بعده وما جاء فيما اشتري من أيدي العدو باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
وَبِإِسْنَادِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ الْأَقْرَعِ: أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَجَدَ رَقِيقَهُ وَمَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ وَجَدَهُ فِي أَيْدِي التُّجَّارِ بَعْدَ مَا قُسِمَ فَلَا سَبِيلَ إِلَيْهِ، وَأَيُّمَا حُرٍّ اشْتَرَاهُ التُّجَّارُ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ رُءُوسَ أَمْوَالِهِمْ، فَإِنَّ الْحُرَّ لَا يُبَاعُ وَلَا يُشْتَرَى. رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ: هَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلٌ، إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ عُمَرَ وَكِلَاهُمَا لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا قَارَبَ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ سَعْدٍ أَثْبَتُ مِنَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَعْدًا فَعَلَهُ بِهِ، وَالْحَدِيثُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلٌ.شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سائب بن اقرع رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: جو مسلمان اپنا غلام یا مال بعینہٖ پا لے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر اس نے تقسیم کے بعد تاجروں کے پاس پایا تو پھر اس کا کوئی حق نہیں ہے اور جس آزاد فرد کو تاجروں نے خرید لیا ہو تو ان کا اصل مال واپس کر دیا جائے گا؛ کیونکہ آزاد آدمی کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مرسل ہے، یہ صرف شعبی کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور رجاء بن حیوہ کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، اور ان دونوں نے نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا اور نہ اس کے قریب پہنچے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ والی حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث سے زیادہ ثابت ہے؛ کیونکہ وہ رکین بن ربیع سے، ان کے والد سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ ایسا کیا، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث مرسل ہے۔