السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من فرق بين وجوده قبل القسم وبين وجوده بعده وما جاء فيما اشتري من أيدي العدو باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18258
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَا: " مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتُنْقِذَ فَعَرَفَهُ أَهْلُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ رُدَّ إِلَيْهِمْ، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوهُ حَتَّى يُقْسَمَ لَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِمْ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي وَهُوَ هَكَذَا مُنْقَطِعٌ، وَابْنُ لَهِيعَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ دشمن مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لے، پھر مال حاصل کر لیا جائے اور مالک تقسیم سے پہلے پہچان لے تو اسے واپس کر دیا جائے گا۔ اگر تقسیم کے بعد پہچان کر لے تو واپس نہ کیا جائے گا۔