کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18252
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الزَّرَّادِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ بَعِيرِي فِي الْمَغْنَمِ كَانَ أَخَذَهُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْطَلِقْ فَإِنْ وَجَدْتَ بَعِيرَكَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَخُذْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُسِمَ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ بِالثَّمَنِ إِنْ أَرَدْتَهُ ". هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِالْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ الْخُشَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ. وَرُوِي بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْهُولٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ. وَرُوِيَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَيَاسِينَ بْنِ مُعَاذٍ الزَّيَّاتِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوعًا عَلَى اخْتِلَافٍ بَيْنَهُمَا فِي لَفْظِهِ، وَإِسْحَاقُ وَيَاسِينُ مَتْرُوكَانِ لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا کہ میرا اونٹ مالِ غنیمت میں ہے جس کو مشرکین نے پکڑ لیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تقسیم سے پہلے آپ اپنے اونٹ کو پا لیں تو لے لو، اگر تقسیم ہو جائے تو پھر اونٹ کی قیمت مل سکتی ہے اگر آپ چاہیں۔“
حدیث نمبر: 18253
وأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، قَالَ: عَرَفَ رَجُلٌ نَاقَةً لَهُ فِي يَدَيْ رَجُلٍ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْ أَمْرِ النَّاقَةِ، فَوَجَدَ أَصْلَهَا اشْتُرِيَ مِنْ أَيْدِي الْعَدُوِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي عَرَفَهَا: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْخُذَ بِالثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهَا بِهِ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِلَّا فَخَلِّ عَنْ نَاقَتِهِ ". قَالَ: وَسَأَلَ شَاهِدَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی اونٹنی کسی شخص کے ہاتھ میں پہچان لی۔ وہ اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، جب اس سے اونٹنی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: میں نے دشمن سے خریدی ہے، تو آپ ﷺ نے پہچاننے والے شخص سے فرمایا: ”اگر آپ لینا چاہیں تو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے، وہ قیمت ادا کرو تو آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں ورنہ اونٹنی چھوڑ دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو گواہوں کے متعلق پوچھا گیا۔
حدیث نمبر: 18254
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ الْعَدُوَّ أَصَابُوا نَاقَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَرَاهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ⦗١٨٩⦘ فَعَرَفَهَا صَاحِبُهَا فَخَاصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " رُدَّ إِلَيْهِ الثَّمَنَ الَّذِي اشْتَرَاهَا بِهِ أَوْ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: تَمِيمُ بْنُ طَرَفَةَ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَالْمُرْسَلُ لَا تَثْبُتُ بِهِ حُجَّةٌ؛ لِأَنَّهُ لَا يُدْرَى عَمَّنْ أَخَذَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب حضرت تمیم بن طرفہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دشمن نے مسلمانوں کے کسی فرد کی اونٹنی پر قبضہ کر لیا اور کسی مسلمان نے اس اونٹنی کو خرید لیا تو اونٹنی کے مالک نے اسے پہچان لیا۔ جھگڑا نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”اس کی قیمت واپس کر دو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے یا اپنی اونٹنی چھوڑ دو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمیم بن طرفہ نے نبی ﷺ سے کچھ نہیں سنا اور مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی، معلوم ہی نہیں کہ اس نے کس سے حاصل کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمیم بن طرفہ نے نبی ﷺ سے کچھ نہیں سنا اور مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی، معلوم ہی نہیں کہ اس نے کس سے حاصل کی۔
حدیث نمبر: 18255
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِيمَا أَحْرَزَهُ الْمُشْرِكُونَ: مَا أَصَابَهُ الْمُسْلِمُونَ فَعَرَفَهُ صَاحِبُهُ، قَالَ: " إِنْ أَدْرَكَهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ لَهُ، وَإِذَا جَرَتْ فِيهِ السِّهَامُ فَلَا شَيْءَ لَهُ ". قَالَ: وَقَالَ قَتَادَةُ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هُوَ لِلْمُسْلِمِينَ، اقْتُسِمَ أَوْ لَمْ يُقْتَسَمْ ". هَذَا مُنْقَطِعٌ قَبِيصَةُ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَتَادَةُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن زویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین نے کسی مال پر قبضہ کر لیا، پھر ان سے مسلمانوں نے حاصل کر لیا اور مال کے مالک نے اپنا مال پہچان لیا، تو اگر تقسیم سے پہلے اپنا مال لے لے تو وہ اسی کا ہے اور جب حصے تقسیم ہو جائیں تو اسے کچھ نہ ملے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مال مسلمانوں کا ہے، خواہ تقسیم ہو یا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 18256
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ ⦗١٩٠⦘ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فِيمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَصَابَهُ الْمُسْلِمُونَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَرُدَّ إِلَى أَهْلِهِ مَا لَمْ يُقْسَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ جو مال دشمن اپنے قبضے میں کر لے، پھر مسلمانوں نے حاصل کر لیا تو تقسیم سے پہلے اصل مالک کو واپس کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 18257
وَبِإِسْنَادِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ الْأَقْرَعِ: أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَجَدَ رَقِيقَهُ وَمَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ وَجَدَهُ فِي أَيْدِي التُّجَّارِ بَعْدَ مَا قُسِمَ فَلَا سَبِيلَ إِلَيْهِ، وَأَيُّمَا حُرٍّ اشْتَرَاهُ التُّجَّارُ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ رُءُوسَ أَمْوَالِهِمْ، فَإِنَّ الْحُرَّ لَا يُبَاعُ وَلَا يُشْتَرَى. رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ: هَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلٌ، إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ عُمَرَ وَكِلَاهُمَا لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا قَارَبَ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ سَعْدٍ أَثْبَتُ مِنَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَعْدًا فَعَلَهُ بِهِ، وَالْحَدِيثُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سائب بن اقرع رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: جو مسلمان اپنا غلام یا مال پا لے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر اس نے تاجروں کے پاس پایا تو پھر اس کا کوئی حق نہیں ہے اور جس آزاد فرد کو تاجروں نے خرید لیا ہو تو ان کا اصل مال واپس کر دیا جائے گا؛ کیونکہ آزاد آدمی کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی۔
حدیث نمبر: 18258
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَا: " مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتُنْقِذَ فَعَرَفَهُ أَهْلُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ رُدَّ إِلَيْهِمْ، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوهُ حَتَّى يُقْسَمَ لَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِمْ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي وَهُوَ هَكَذَا مُنْقَطِعٌ، وَابْنُ لَهِيعَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ دشمن مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لے، پھر مال حاصل کر لیا جائے اور مالک تقسیم سے پہلے پہچان لے تو اسے واپس کر دیا جائے گا۔ اگر تقسیم کے بعد پہچان کر لے تو واپس نہ کیا جائے گا۔