السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من فرق بين وجوده قبل القسم وبين وجوده بعده وما جاء فيما اشتري من أيدي العدو باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18256
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ ⦗١٩٠⦘ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فِيمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَصَابَهُ الْمُسْلِمُونَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَرُدَّ إِلَى أَهْلِهِ مَا لَمْ يُقْسَمْ ".حافظ ثناء اللہ
رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ جو مال دشمن اپنے قبضے میں کر لے، پھر مسلمانوں نے حاصل کر لیا تو تقسیم سے پہلے اصل مالک کو واپس کیا جا سکتا ہے۔