السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من فرق بين وجوده قبل القسم وبين وجوده بعده وما جاء فيما اشتري من أيدي العدو باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18255
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِيمَا أَحْرَزَهُ الْمُشْرِكُونَ: مَا أَصَابَهُ الْمُسْلِمُونَ فَعَرَفَهُ صَاحِبُهُ، قَالَ: " إِنْ أَدْرَكَهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ لَهُ، وَإِذَا جَرَتْ فِيهِ السِّهَامُ فَلَا شَيْءَ لَهُ ". قَالَ: وَقَالَ قَتَادَةُ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هُوَ لِلْمُسْلِمِينَ، اقْتُسِمَ أَوْ لَمْ يُقْتَسَمْ ". هَذَا مُنْقَطِعٌ قَبِيصَةُ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَتَادَةُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ.حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن زویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین نے کسی مال پر قبضہ کر لیا، پھر ان سے مسلمانوں نے حاصل کر لیا اور مال کے مالک نے اپنا مال پہچان لیا، تو اگر تقسیم سے پہلے اپنا مال لے لے تو وہ اسی کا ہے اور جب حصے تقسیم ہو جائیں تو اسے کچھ نہ ملے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مال مسلمانوں کا ہے، خواہ تقسیم ہو یا نہ ہو۔