السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من فرق بين وجوده قبل القسم وبين وجوده بعده وما جاء فيما اشتري من أيدي العدو باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18254
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ الْعَدُوَّ أَصَابُوا نَاقَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَرَاهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ⦗١٨٩⦘ فَعَرَفَهَا صَاحِبُهَا فَخَاصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " رُدَّ إِلَيْهِ الثَّمَنَ الَّذِي اشْتَرَاهَا بِهِ أَوْ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: تَمِيمُ بْنُ طَرَفَةَ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَالْمُرْسَلُ لَا تَثْبُتُ بِهِ حُجَّةٌ؛ لِأَنَّهُ لَا يُدْرَى عَمَّنْ أَخَذَهُ.حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب حضرت تمیم بن طرفہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دشمن نے مسلمانوں کے کسی فرد کی اونٹنی پر قبضہ کر لیا اور کسی مسلمان نے اس اونٹنی کو خرید لیا تو اونٹنی کے مالک نے اسے پہچان لیا۔ جھگڑا نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”اس کی قیمت واپس کر دو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے یا اپنی اونٹنی چھوڑ دو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمیم بن طرفہ نے نبی ﷺ سے کچھ نہیں سنا اور مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی، معلوم ہی نہیں کہ اس نے کس سے حاصل کی۔