السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من فرق بين وجوده قبل القسم وبين وجوده بعده وما جاء فيما اشتري من أيدي العدو باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد وہ (چھینا ہوا مال) ملنے کے درمیان فرق کیا ہے، اور اس مال کا بیان جو دشمن کے ہاتھوں سے خریدا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18253
وأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، قَالَ: عَرَفَ رَجُلٌ نَاقَةً لَهُ فِي يَدَيْ رَجُلٍ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْ أَمْرِ النَّاقَةِ، فَوَجَدَ أَصْلَهَا اشْتُرِيَ مِنْ أَيْدِي الْعَدُوِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي عَرَفَهَا: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْخُذَ بِالثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهَا بِهِ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِلَّا فَخَلِّ عَنْ نَاقَتِهِ ". قَالَ: وَسَأَلَ شَاهِدَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی اونٹنی کسی شخص کے ہاتھ میں پہچان لی۔ وہ اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، جب اس سے اونٹنی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: میں نے دشمن سے خریدی ہے، تو آپ ﷺ نے پہچاننے والے شخص سے فرمایا: ”اگر آپ لینا چاہیں تو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے، وہ قیمت ادا کرو تو آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں ورنہ اونٹنی چھوڑ دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو گواہوں کے متعلق پوچھا گیا۔