السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من زعم لا تقام الحدود في أرض الحرب حتى يرجع باب: اس شخص کا بیان جس کا یہ موقف ہے کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں یہاں تک کہ (مجاہدین) واپس لوٹ آئیں۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَإِلَى عُمَّالِهِ: " أَنْ لَا يُقِيمُوا حَدًّا عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ حَتَّى يَخْرُجُوا إِلَى أَرْضِ الْمُصَالَحَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُسْتَنْكَرٌ، وَهُوَ يَعِيبُ أَنْ يُحْتَجَّ بِحَدِيثٍ غَيْرِ ثَابِتٍ، وَيَقُولُ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ، وَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ وَيَقُولُ: مَكْحُولٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُهُ يَلْحَقُ بِالْمُشْرِكِينَ، فَإِنْ لَحِقَ بِهِمْ فَهُوَ أَشْقَى لَهُ، وَمَنْ تَرَكَ الْحَدَّ خَوْفَ أَنْ يَلْحَقَ الْمَحْدُودُ بِبِلَادِ الْمُشْرِكِينَ تَرَكَهُ فِي سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِينَ وَمَسَالِحِهِمُ الَّتِي تَتَّصِلُ بِبِلَادِ الْحَرْبِ.حکیم بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے عمال کو خط لکھا کہ وہ مسلمانوں پر «دَارُ الْحَرْبِ» میں حد نافذ نہ کریں، یہاں تک کہ وہ صلح والی زمین پر آ جائیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایت منکر ہے، اور وہ (ابو یوسف) خود غیر ثابت شدہ حدیث سے دلیل لینے کو عیب سمجھتے ہیں، پھر کہتے ہیں: ہمیں ایک شیخ نے بیان کیا، تو یہ شیخ کون ہے؟ اور کہتے ہیں: مکحول، زید بن ثابت سے، حالانکہ مکحول نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا۔ نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا کہ وہ مشرکین سے جا ملے گا، تو اگر وہ ان سے جا ملے تو یہ اس کے لیے اور زیادہ بدبختی ہے، اور جو شخص حد کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ حد والا مشرکین کے علاقوں میں جا ملے گا تو اسے مسلمانوں کی ساحلی حدوں اور ان سرحدی چوکیوں میں بھی حد چھوڑنی پڑے گی جو «بِلَادُ الْحَرْبِ» سے ملی ہوئی ہیں۔