حدیث نمبر: 18227
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا ⦗١٧٩⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ خَتَنُ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيِّ، ثنا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَرِبَ عَبْدُ بْنُ الْأَزْوَرِ وَضِرَارُ بْنُ الْأَزْوَرِ وَأَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو بِالشَّامِ، فَأُتِيَ بِهِمْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ: وَاللهِ مَا شَرِبْتُهَا إِلَّا عَلَى تَأْوِيلِ أَنِّي سَمِعْتُ اللهَ يَقُولُ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [المائدة: ٩٣]. فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَمْرِهِمْ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ الْأَزْوَرِ: إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ لَنَا عَدُوُّنَا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤَخِّرَنَا إِلَى أَنْ نَلْقَى عَدُوَّنَا غَدًا، فَإِنِ اللهُ أَكْرَمَنَا بِالشَّهَادَةِ كَفَاكَ ذَاكَ وَلَمْ تُقِمْنَا عَلَى خَزَايَةٍ وَإِنْ نَرْجِعْ نَظَرْتَ إِلَى مَا أَمَرَكَ بِهِ صَاحِبُكَ فَأَمْضَيْتَهُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَنَعَمْ. فَلَمَّا الْتَقَى النَّاسُ قُتِلَ عَبْدُ بْنُ الْأَزْوَرِ شَهِيدًا، فَرَجَعَ الْكِتَابُ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الَّذِي أَوْقَعَ أَبَا جَنْدَلٍ فِي الْخَطِيئَةِ قَدْ تَهَيَّأَ لَهُ فِيهَا بِالْحُجَّةِ، وَإِذَا أَتَاكَ كِتَابِي هَذَا فَأَقِمْ عَلَيْهِمْ حَدَّهُمْ وَالسَّلَامُ. فَدَعَاهُمَا أَبُو عُبَيْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَدَّهُمَا، وَأَبُو جَنْدَلٍ لَهُ شَرَفٌ وَلِأَبِيهِ، فَكَانَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ حَتَّى قِيلَ: إِنَّهُ قَدْ وُسْوِسَ، فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ أَبَا جَنْدَلٍ حَدَّهُ، وَإِنَّهُ قَدْ حَدَّثَ نَفْسَهُ حَتَّى قَدْ خَشِينَا عَلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ. فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي جَنْدَلٍ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الَّذِي أَوْقَعَكَ فِي الْخَطِيئَةِ قَدْ خَزَنَ عَلَيْكَ التَّوْبَةَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {حم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ} [غافر: ٢]، فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَهَبَ عَنْهُ مَا كَانَ بِهِ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ.
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن ازور، ضرار بن خطاب، ابو جندل اور سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہم نے شام میں شراب پی۔ انھیں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ ابو جندل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو اس قرآنی آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پی: ﴿لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ﴾ [سورة المائدة: 93] ”ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اس میں جو انہوں نے کھایا، جب وہ اللہ سے ڈرے ہیں اور ایمان لائے نیک اعمال کیے۔“ تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا، تو عبد بن ازور رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دشمن ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگر آپ ہمیں کل تک دشمن سے لڑنے کے لیے مہلت دیں، اگر اللہ نے شہادت کا مرتبہ عطا کر دیا تو آپ کو یہی کافی ہے، آپ ہمیں حد نہ لگائیں گے۔ اگر واپس آئے تو جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حکم ہو، وہ کر گزرنا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مان گئے، تو عبد بن ازور رضی اللہ عنہ لڑائی میں شہید کر دیے گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ ابو جندل نے دلیل لینے میں غلطی کی ہے۔ جب میرا خط آپ کو مل جائے تو ان پر حد نافذ کر دینا۔ والسلام! ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے دونوں کو بلا کر حد نافذ کر دی۔ ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کا ایک مقام تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ کہا گیا کہ ان کے حواس گم ہو گئے ہیں تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ دیا کہ میں نے ابو جندل کو حد لگائی تو وہ بد حواس ہو گیا۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ حمد و ثنا کے بعد: جس چیز نے آپ کو غلطی میں مبتلا کیا ہے اس کی وجہ سے آپ کے ذمہ توبہ لازم ہے: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ حم ۝ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ۝ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ۝ مَا يُجَادِلُ فِيْ اٰیٰتِ اللّٰهِ إِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ﴾ [سورة غافر: 1-4] ”اس کتاب کا نازل کرنا غالب جاننے والے اللہ کی جانب سے ہے، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا والا، قوت والا، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اللہ کی آیات کے بارے میں صرف کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کا شہروں میں پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔“ جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا تو ان کی وہ کیفیت ختم ہو گئی گویا کہ وہ رسی سے کھول دیے گئے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18227
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»