السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من زعم لا تقام الحدود في أرض الحرب حتى يرجع باب: اس شخص کا بیان جس کا یہ موقف ہے کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں یہاں تک کہ (مجاہدین) واپس لوٹ آئیں۔
حدیث نمبر: 18225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي دَارِ الْحَرْبِ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ أَهْلُهَا بِالْعَدُوِّ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن سے نہ جا ملے۔