❮
❯
حدیث نمبر: 18214
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ وَمَعَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَغَلَّ رَجُلٌ مَتَاعًا فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بِمَتَاعِهِ فَأُحْرِقَ وَطِيفَ بِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ سَهْمَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ، رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ هِشَامٍ حَرَّقَ رَحْلَ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَ قَدْ غَلَّ، وَضَرَبَهُ..
حافظ ثناء اللہ

صالح بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تھے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں خیانت کر لی تو ولید نے اس کے سامان کو جلانے کا حکم دیا اور اسے (لوگوں میں) پھرایا گیا اور مال غنیمت میں سے حصہ بھی نہ دیا گیا۔ (ب) ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ صحیح ہے۔ کئی راویوں نے بیان کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کا سامان جلایا، اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، اور اسے مارا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18214
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»