السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: لا يقطع من غل في الغنيمة ولا يحرق متاعه، ومن قال يحرق باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کا سامان جلایا جائے گا، اور اس شخص کے بیان میں جس نے کہا کہ سامان جلایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18214
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ وَمَعَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَغَلَّ رَجُلٌ مَتَاعًا فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بِمَتَاعِهِ فَأُحْرِقَ وَطِيفَ بِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ سَهْمَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ، رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ هِشَامٍ حَرَّقَ رَحْلَ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَ قَدْ غَلَّ، وَضَرَبَهُ..حافظ ثناء اللہ
صالح بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تھے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں خیانت کر لی تو ولید نے اس کے سامان کو جلانے کا حکم دیا اور اسے سزا دی گئی اور مال غنیمت میں سے حصہ بھی نہ دیا گیا۔ (ب) ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثوں سے زیادہ صحیح ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کا سامان جلایا، اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔