السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: لا يقطع من غل في الغنيمة ولا يحرق متاعه، ومن قال يحرق باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کا سامان جلایا جائے گا، اور اس شخص کے بیان میں جس نے کہا کہ سامان جلایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18213
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٧٥⦘ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ، فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ ". قَالَ: فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا، فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْهُ فَقَالَ: بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ. لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدٍ، فَهَذَا ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
صالح بن محمد بن زائدہ فرماتے ہیں: میں روم کی سرزمین پر مسلم بن عبدالملک کے ساتھ تھا۔ ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔ اس نے سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اس کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید پایا تو سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں: قرآن مجید بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔