السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: لا يقطع من غل في الغنيمة ولا يحرق متاعه، ومن قال يحرق باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کا سامان جلایا جائے گا، اور اس شخص کے بیان میں جس نے کہا کہ سامان جلایا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ الْمَدَنِيُّ تَرَكَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، يَرْوِي عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رَفْعَهُ: " مَنْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ ". وَقَدْ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُلُولِ وَلَمْ يَحْرِقْ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعَلَيْهِ أَصْحَابُنَا يَحْتَجُّونَ بِهَذَا فِي الْغُلُولِ وَهَذَا بَاطِلٌ لَيْسَ بِشَيْءٍ..امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صالح بن محمد بن زائدہ ابو واقد لیثی مدنی کو سلیمان بن حرب نے ترک کر دیا تھا، وہ منکر الحدیث ہے۔ وہ سالم سے، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث نقل کرتا ہے کہ ”جو شخص مال غنیمت میں خیانت کرے اس کا سامان جلا دو“۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے مال غنیمت میں خیانت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، آپ ﷺ نے اس کا سامان نہیں جلایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب خیانت کے بارے میں اسی سے دلیل لیتے ہیں، اور وہ (سامان جلانے والی) روایت باطل ہے، کچھ بھی نہیں۔