حدیث نمبر: 18212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَوْلَهُ لَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ مَنْعَ سَهْمِهِ، وَيُقَالُ: إِنَّ زُهَيْرًا هَذَا مَجْهُولٌ وَلَيْسَ بِالْمَكِّيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ «أَوْثَقُ عُرَى الْإِيمَانِ» ”ایمان کا کون سا کڑا سب سے زیادہ مضبوط ہے؟““ لوگوں نے کہا: نماز، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز (بلاشبہ) اچھی چیز ہے، لیکن وہ (مراد) نہیں ہے“، لوگوں نے کہا: روزہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ (بلاشبہ) اچھا ہے، لیکن وہ (مراد) نہیں ہے“، یہاں تک کہ انہوں نے جہاد کا تذکرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد (بلاشبہ) اچھا ہے، لیکن وہ (مراد) نہیں ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک «أَوْثَقُ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ فِي اللهِ وَتُبْغِضَ فِي اللهِ» ”ایمان کا سب سے مضبوط کڑا یہ ہے کہ تم اللہ کے لیے محبت کرو اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھو۔““

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18212