السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: جواز انفراد الرجل والرجال بالغزو في بلاد العدو استدلالا بجواز التقدم على الجماعة وإن كان الأغلب أنها ستقتله باب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: " غَزَوْنَا الْمَدِينَةَ، يُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ مَهْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُلْقِي بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَمَّا نَصَرَ اللهُ نَبِيَّهُ وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ قُلْنَا: هَلُمَّ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: ١٩٥]، فَالْإِلْقَاءُ بِأَيْدِينَا إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَهَا وَنَدَعَ الْجِهَادَ ". قَالَ أَبُو عِمْرَانَ: فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْمَعْنَى أَحَادِيثُ ".یزید بن ابی حبیب، اسلم ابی عمران سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے قسطنطنیہ میں غزوہ کیا اور اس وقت امیر عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما تھے۔ رومی اپنی پشت شہر کے باغ کی دیوار سے لگائے کھڑے تھے۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ”رک جاؤ، رک جاؤ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہ تو اپنا ہاتھ ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی؛ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا، تو ہم نے (آپس میں) کہا: آؤ! اب ہم اپنے مالوں میں رک جائیں اور ان کی اصلاح کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اور تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔“ پس اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں کی اصلاح میں لگ جائیں اور جہاد چھوڑ دیں۔“
ابو عمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں مدفون ہو گئے۔