السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الكافر الحربي يقتل مسلما ثم يسلم لم يكن عليه قود باب: حربی کافر کسی مسلمان کو قتل کر دے پھر اسلام لے آئے تو اس پر قصاص نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18194
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ سَقَرَ بْنِ نَصْرٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ وَقَتْلِ حَرَامِ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ لِي: " هَلْ لَكَ فِي قَاتِلٍ لِحَرَامٍ؟ ". قُلْتُ: مَا بَالُهُ فَعَلَ اللهُ بِهِ وَفَعَلَ. قَالَ: لَا تَفْعَلْ فَقَدْ أَسْلَمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت رحمہ اللہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے اور سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں روایت کرتے ہیں، اس کے آخر میں فرماتے ہیں: اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھ سے فرمایا کرتے تھے: آپ کا حرام کے قاتل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: اس کی کیا حالت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ جو کیا سو کیا۔ فرمانے لگے: وہ مسلمان ہو گیا ہے، آپ کچھ بھی نہ کریں۔