کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 18195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: " غَزَوْنَا الْمَدِينَةَ، يُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ مَهْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُلْقِي بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَمَّا نَصَرَ اللهُ نَبِيَّهُ وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ قُلْنَا: هَلُمَّ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: ١٩٥]، فَالْإِلْقَاءُ بِأَيْدِينَا إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَهَا وَنَدَعَ الْجِهَادَ ". قَالَ أَبُو عِمْرَانَ: فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْمَعْنَى أَحَادِيثُ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی حبیب، اسلم ابی عمران سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے قسطنطنیہ میں غزوہ کیا اور اس وقت امیر عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما تھے۔ رومی اپنی پشت شہر کے باغ کی دیوار سے لگائے کھڑے تھے۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ”رک جاؤ، رک جاؤ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہ تو اپنا ہاتھ ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی؛ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا، تو ہم نے (آپس میں) کہا: آؤ! اب ہم اپنے مالوں میں رک جائیں اور ان کی اصلاح کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اور تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔“ پس اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں کی اصلاح میں لگ جائیں اور جہاد چھوڑ دیں۔“
ابو عمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں مدفون ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18195
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم ١٧٩٢٥»
حدیث نمبر: 18196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗١٦٩⦘ أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ ". فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. " وَهَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ بْنِ شَيْبَانَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں شہید کر دیا گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس شخص نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں، پھر لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18196
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ لَنَا طِلْبَةً، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا ". فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: " لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا ". فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقْدِمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُوذِنُهُ ". فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟ ". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا ". فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے «بَسْبَسَةَ» ”بسبسہ“ کو جاسوس بنا کر روانہ کیا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا لشکر کیا کر رہا ہے؟ جب وہ واپس آئے تو (گھر میں) میرے اور رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی نہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے (اپنی) بعض ازواج کا استثناء کیا (یا نہیں)۔ رسول اللہ ﷺ (باہر) نکلے اور فرمایا: ”جس کے پاس سواری (تیار) ہو وہ ہمارے ساتھ چلے۔“
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواریاں لے آئیں، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، (صرف وہی چلے) جس کے پاس سواری (ابھی) موجود ہو۔“ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے، پھر مشرکین بھی آ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں (اجازت دے دوں)۔“ جب مشرکین قریب آ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو (دوڑو) جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ!“ کے کلمات کہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تو «بَخٍ بَخٍ» کے کلمات کہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! صرف اس امید پر کہ میں بھی اس کے باسیوں میں سے ہو جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً تو اس کے باسیوں میں سے ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کیا، پھر کہنے لگے: اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ زندگی تو بہت لمبی ہو جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں اور مشرکین سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18197
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٩٠١»
حدیث نمبر: 18198
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: لَمَّا الْتَقَى النَّاسُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يُضْحِكُ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عَبْدِهِ؟ قَالَ: " أَنْ يَرَاهُ قَدْ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْقِتَالِ يُقَاتِلُ حَاسِرًا ". فَنَزَعَ عَوْفٌ دِرْعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن عمر بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کی بدر کے دن دشمن سے جنگ ہوئی تو سیدنا عوف بن عفراء بن حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کس ادا پر مسکراتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ننگے بدن لڑائی میں کود پڑتا ہے۔“ تو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ اتار دی، پھر آگے بڑھ کر لڑائی کی، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18198
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَدْ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَخَبَّابًا سَرِيَّةً، وَبَعَثَ دِحْيَةَ سَرِيَّةً وَحْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود اور خباب رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر، جب کہ دحیہ رضی اللہ عنہ کو اکیلے لشکر بنا کر روانہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18199
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18200
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَخَلَّفَ عَنْ أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ، فَرَأَى الطَّيْرَ عُكُوفًا عَلَى مَقْتَلَةِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ: سَأَتَقَدَّمُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْعَدُوِّ فَيَقْتُلُونَنِي وَلَا أَتَخَلَّفُ عَنْ مَشْهَدٍ قُتِلَ فِيهِ أَصْحَابُنَا، فَفَعَلَ فَقُتِلَ، فَرَجَعَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا حَسَنًا، وَيُقَالُ قَالَ لِعَمْرٍو: " فَهَلَّا تَقَدَّمْتَ فَقَاتَلْتَ حَتَّى تُقْتَلَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَرِيَّةً وَحْدَهُمَا، وَبَعَثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ سَرِيَّةً وَحْدَهُ، وَقَدْ ذَكَرْنَا إِسْنَادَهُمَا فِي هَذَا الْكِتَابِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص بئرِ معونہ کے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس نے عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں بھی اپنے دشمنوں سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کر دیں اور اپنے ساتھیوں کی قتل گاہ سے پیچھے نہ ہٹوں گا۔“ اس نے ایسا ہی کیا، وہ شہید کر دیا گیا تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر نبی ﷺ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی۔ آپ ﷺ نے عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تو آگے بڑھ کر قتال نہیں کرتا یہاں تک کہ تجھے قتل کر دیا جائے؟“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کو لشکر بنا کر روانہ فرمایا اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو اکیلے ہی سریہ بنا کر روانہ فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18200
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»