السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: جواز انفراد الرجل والرجال بالغزو في بلاد العدو استدلالا بجواز التقدم على الجماعة وإن كان الأغلب أنها ستقتله باب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 18196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗١٦٩⦘ أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ ". فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. " وَهَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ بْنِ شَيْبَانَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں شہید کر دیا گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس شخص نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں، پھر لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔