حدیث نمبر: 18156
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي ابْنُ صَفْوَانَ، وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشَيِّعًا لِأَهْلِ مُؤْتَةَ حَتَّى بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، فَوَقَفَ وَوَقَفُوا حَوْلَهُ، فَقَالَ: " اغْزُوا بِاسْمِ اللهِ فَقَاتِلُوا عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ بِالشَّامِ، ⦗١٥٥⦘ وَسَتَجِدُونَ فِيهِمْ رِجَالًا فِي الصَّوَامِعِ مُعْتَزِلِينَ مِنَ النَّاسِ فَلَا تَعَرَّضُوا لَهُمْ، وَسَتَجِدُونَ آخَرِينَ لِلشَّيْطَانِ فِي رُءُوسِهِمْ مَفَاحِصُ فَافْلِقُوهَا بِالسُّيُوفِ، وَلَا تَقْتُلُوا امْرَأَةً، وَلَا صَغِيرًا ضَرَعًا، وَلَا كَبِيرًا فَانِيًا، وَلَا تَقْطَعُنَّ شَجَرَةً، وَلَا تَعْقِرُنَّ نَخْلًا، وَلَا تَهْدِمُوا بَيْتًا ". وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اہل موتہ کو الوداع کرتے ہوئے ثنیۃ الوداع تک جا پہنچے۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر غزوہ کرو۔ تم اپنے اور خدا کے دشمنوں سے ملک شام میں قتال کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو کنیسہ میں دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ ہوں گے تو ان کے درپے نہ ہونا اور دوسری قسم کے لوگ جن کے سروں پر شیطانوں نے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے، ان کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور کسی عورت، چھوٹے بچے، زیادہ بوڑھے شخص کو قتل نہ کرو اور درخت، کھجور نہ کاٹو اور گھروں کو نہ گراؤ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18156
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»