السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك قتل من لا قتال فيه من الرهبان والكبير وغيرهما باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
حدیث نمبر: 18155
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى عَنْبَسَةَ الْقُرَشِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ: " انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللهِ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: " وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا طِفْلًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا تُغَوِّرُنَّ عَيْنًا، وَلَا تَعْقِرُنَّ شَجَرَةً إِلَّا شَجَرًا يَمْنَعُكُمْ قِتَالًا أَوْ يَحْجِزُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُمَثِّلُوا بِآدَمِيٍّ وَلَا بَهِيمَةٍ، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا ". " فِي هَذَا الْإِسْنَادِ إِرْسَالٌ وَضَعْفٌ، وَهُوَ بِشَوَاهِدِهِ مَعَ مَا فِيهِ مِنَ الْآثَارِ يَقْوَى، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مسلمانوں کا لشکر مشرکین کی جانب روانہ کرتے تو فرماتے: ”«بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ چلو۔“ انہوں نے حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ: ”تم بچوں، عورتوں اور زیادہ بوڑھے کو قتل نہ کرو۔ آنکھ خراب نہ کرو۔ صرف وہ درخت کاٹو جو تمہارے اور مشرکین کے درمیان لڑائی میں رکاوٹ بنتا ہو۔ کسی انسان و چوپائے کا مثلہ نہ کرو۔ دھوکا اور خیانت بھی نہ کرو۔“