السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك قتل من لا قتال فيه من الرهبان والكبير وغيرهما باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ أَبُو زَكَرِيَّا، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ، فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ مِمَّا أَصَابَتْهُ الْمُقَدِّمَةُ، فَوَقَفُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، قَالَ: فَفَرَّجُوا عَنِ الْمَرْأَةِ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " هَا مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتَلُ ". قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ: " الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلَا يَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَبَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ أَصَحُّ، وَمَنْ قَالَ رِيَاحٌ فَهُوَ وَهِمٌ. كَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى.مرقع بن صیفی اپنے دادا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ سے، جو حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ لشکر کے مقدمہ پر مقرر تھے۔ رباح رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مقتولہ عورت کے پاس سے گزرے جس کو مقدمہ کے لشکر نے قتل کر دیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے اور اس کی شکل و صورت پر تعجب کر رہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ بھی اپنی اونٹنی پر تشریف لے آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عورت کے قریب سے ہٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ لڑائی کرتی تھی؟“ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے چہرے دیکھے اور کسی کو حکم دیا کہ: ”جاؤ خالد بن ولید سے کہہ کر آؤ کہ وہ کسی بچے اور غلام کو قتل نہ کریں۔“