حدیث نمبر: 18141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، عَنْ شُيُوخِهِ، فَذَكَرُوا قِصَّةَ حَنْظَلَةَ، قَالُوا: " وَأَخَذَ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سِلَاحَهُ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُحُدٍ وَهُوَ يُسَوِّي الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْكَشَفَ الْمُشْرِكُونَ اعْتَرَضَ حَنْظَلَةُ لِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ فَضَرَبَ ⦗١٥٠⦘ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ فَاكْتَسَعَتِ الْفَرَسُ، وَيَقَعُ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى الْأَرْضِ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ. وَحَنْظَلَةُ يُرِيدُ ذَبَحَهُ بِالسَّيْفِ، فَأَسْمَعَ الصَّوْتُ رِجَالًا لَا يَلْتَفِتُونَ إِلَيْهِ فِي الْهَزِيمَةِ حَتَّى عَايَنَهُ الْأَسْوَدُ بْنُ شَعُوبٍ، فَحَمَلَ عَلَى حَنْظَلَةَ بِالرُّمْحِ، فَأَنْفَذَهُ وَهَرَبَ أَبُو سُفْيَانَ ".
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عمر واقدی رحمہ اللہ اپنے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حنظلہ کا قصہ ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنا اسلحہ لیا اور احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا ملے۔ جس وقت آپ ﷺ صفیں درست فرما رہے تھے۔ جب مشرک سامنے ہوئے تو حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان کا پیچھا کر کے اس کے گھوڑے کی رگیں کاٹ ڈالیں تو گھوڑا رک گیا اور ابو سفیان زمین پر گر پڑا، ابو سفیان چیخ رہا تھا: اے قریشیو! میں ابو سفیان بن حرب ہوں، حنظلہ رضی اللہ عنہ تلوار سے اسے ذبح کرنا چاہتے تھے۔ کئی اشخاص نے اس کی آواز سنی، لیکن شکست کی بنا پر کوئی اس کی جانب التفات بھی نہ کر رہا تھا یہاں تک کہ اسود بن شعوب نے اس کی مدد کی۔ اس نے حنظلہ رضی اللہ عنہ کو تیر مار کر ہلاک کر دیا، اس کو چھڑوایا تو ابو سفیان بھاگ گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18141
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»