السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في عقر دابة من يقاتله حال القتال باب: دورانِ جنگ لڑنے والے دشمن کی سواری (جانور) کے پاؤں کاٹنے کی اجازت کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْحُدَيْبِيَةِ وَرُجُوعِهِمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرًا مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُبْدِيهِ مَعَ الظَّهْرِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ، وَقَتْلَ رَاعِيَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ، خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ. قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ عَلَى ثَنِيَّةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ يَا صَبَاحَاهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: فَأَرْمِي رَجُلًا فَأَضَعُ السَّهْمَ حَتَّى يَقَعَ فِي كَتِفِهِ، وَقُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: فَوَاللهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ، فَإِذَا رَجَعَ إِلِيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا فَرَمَيْتُهِ فَعَقَرْتُ بِهِ، فَإِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي مُتَضَايِقٍ رَقِيتُ الْجَبَلَ، ثُمَّ جَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ. قَالَ: فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللهُ بَعِيرًا مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، وَإِذَا أَوَّلُهُمُ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، وَعَلَى أَثَرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَعَلَى أَثَرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ، فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ فَرَسِ الْأَخْرَمِ، قُلْتُ: يَا أَخْرَمُ، إِنَّ الْقَوْمَ قَلِيلٌ فَاحْذَرْهُمْ، لَا يَقْتَطِعُونَكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ. فَخَلَّيْتُهُ، فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ، وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِهِ فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ، وَعُقِرَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ وَخَرَجُوا هَارِبِينَ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ⦗١٥١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حدیبیہ کا قصہ ذکر کیا اور مدینہ کی طرف واپسی کا تذکرہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے غلام رباح رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ اونٹ بھیجے۔ راوی کہتے ہیں: میں بھی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ساتھ نکلا، میں بھی اونٹوں کا خیال رکھ رہا تھا۔ اچانک صبح کے وقت عبدالرحمن بن عیینہ نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کر دیا اور تمام اونٹ لے گیا اور چرواہے کو قتل کر دیا۔ میں نے کہا: ”اے رباح! یہ گھوڑا لو اور سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو دے دینا اور جا کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دو کہ مشرکین نے مویشیوں پر حملہ کر دیا ہے۔“ پھر میں نے ثنیہ پہاڑی پر چڑھ کر مدینہ کی طرف منہ کر کے تین آوازیں لگائیں: «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ!» ”اے صبح کے وقت ہونے والے حملے (کی پکار)!“ اے لوگو! ہم صبح کے وقت لٹ گئے۔ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے ہو لیا، تیر مار رہا تھا اور اشعار پڑھ رہا تھا: «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ، وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔“ کہتے ہیں: میں کسی کو تیر مارتا اور اپنے تیر محفوظ بھی رکھتا یہاں تک کہ جب وہ اس کے کندھے کو زخمی کرتا تو پھر میں کہتا: ”یہ لو! «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ، وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔“ کہتے ہیں: میں انہیں تیر مارتا اور زخمی کرتا رہا، جب کوئی شہسوار واپس آتا تو میں درخت کی اوٹ میں ہو کر بیٹھ جاتا اور تیر مار کر زخمی کر دیتا اور جب پہاڑوں کا تنگ راستہ آ جاتا تو میں پہاڑ کے اوپر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر برساتا۔ کہتے ہیں: میں اس طرح کرتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے جتنے اونٹ تھے، میں نے ان کو اپنے پیچھے محفوظ کر لیا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو پیچھے چھوڑتا گیا اور وہ اپنا بوجھ ہلکا کرتے رہے۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ میں اپنی جگہ پر رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے شہسواروں کو دیکھا کہ وہ درختوں کے درمیان سے ظاہر ہوئے۔ سب سے پہلے آنے والے سیدنا اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، ان کے پیچھے سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ۔ میں نے سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام تھام لی، میں نے کہا: ”اے اخرم! یہ تھوڑے لوگ ہیں، ان سے بچو! وہ تجھے ہلاک نہ کر دیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنهم ہمیں مل جائیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے سلمہ! اگر تو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جنت و جہنم کو حق خیال کرتا ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بن۔“ تو میں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ عبدالرحمن بن عیینہ سے جا ملے تو سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عیینہ کے گھوڑے کو زخمی کر دیا تو عبدالرحمن نے سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر شہید کر دیا۔ پھر عبدالرحمن اپنے گھوڑے کے پاس آیا، اتنی دیر میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کو قتل کر دیا اور عبدالرحمن نے انہیں زخمی کیا۔ پھر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو اپنی تحویل میں لیا اور وہ بھاگ گئے۔