السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في عقر دابة من يقاتله حال القتال باب: دورانِ جنگ لڑنے والے دشمن کی سواری (جانور) کے پاؤں کاٹنے کی اجازت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَدْ عَقَرَ حَنْظَلَةُ بْنُ الرَّاهِبِ بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَاكْتَسَعَتْ فَرَسُهُ بِهِ، فَسَقَطَ عَنْهَا فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ لِيَذْبَحَهُ، فَرَآهُ ابْنُ شَعُوبٍ فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَعْدُو كَأَنَّهُ سَبُعٌ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَنْقَذَ أَبَا سُفْيَانَ مِنْ تَحْتِهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ:.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کے جانور کی کونچیں احد کے دن کاٹ ڈالیں۔ اس کا گھوڑا بیٹھ گیا تو ابو سفیان رضی اللہ عنہ گر پڑے، تو حنظلہ رضی اللہ عنہ ان کے سینے پر ذبح کرنے کے لیے چڑھ بیٹھے۔ ابن شعوب نے دیکھ لیا، وہ اس کی طرف درندے کی طرح لپکا اور اس کو قتل کر دیا۔ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو اس کے نیچے سے بچا لیا، تو اس کے بعد ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے: اگر میں چاہتا تو مجھے طاقت ور سرخ و سیاہ رنگت والا گھوڑا ہی بچا لیتا اور میں ابن شعوب کا احسان نہ اٹھاتا۔ میرا بچھیرا گھوڑا صبح کے وقت سے ان کے کتے کو دھتکارتا رہا حتیٰ کہ غروب کے قریب ہو گیا۔ میں ان سے مسلسل لڑتا رہوں گا اور میں پکاروں گا: غالب کی طرف آؤ، اور میں ان کو صلیب کے غلبے کے ساتھ اپنے سے دور کرتا رہوں گا۔