السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18138
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ جَاءَ فِيهِ نَهْيٌ كَثِيرٌ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " الْحُفَّاظُ يَتَوَقَّوْنَ مَا يَنْفَرِدُ بِهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَإِنْ صَحَّ فَلَعَلَّ جَعْفَرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَبْلُغْهُ النَّهْيُ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد سجستانی فرماتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، اس کی ممانعت بہت سے صحابہ سے منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حفاظ حدیث اس روایت سے احتیاط برتتے ہیں جسے ابن اسحاق اکیلے بیان کریں، اور اگر یہ بات درست ہے تو ممکن ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو نہی کے بارے میں علم نہ ہو۔