السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قطع الشجر وحرق المنازل باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَكَمَةِ عِنْدَ حِصْنِ الطَّائِفِ، فَحَاصَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، وَقَاتَلَتْهُ ثَقِيفٌ بِالنَّبْلِ وَالْحِجَارَةِ وَهُمْ فِي حِصْنِ الطَّائِفِ، وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى فِي الْمُسْلِمِينَ وَفِي ثَقِيفٍ، وَقَطَعَ الْمُسْلِمُونَ شَيْئًا مِنْ كُرُومِ ثَقِيفٍ لِيَغِيظُوهُمْ بِذَلِكَ. قَالَ عُرْوَةُ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ حِينَ حَاصَرُوا ثَقِيفًا أَنْ يَقْطَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَمْسَ نَخَلَاتٍ، أَوْ حَبَلَاتٍ مِنْ كُرُومِهِمْ، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا عَفًا لَمْ تُؤْكَلْ ثِمَارُهَا. فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْطَعُوا مَا أُكِلَتْ ثَمَرَتُهُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ".عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف کے قلعے کے پاس اونچی جگہ پر پڑاؤ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کا دس سے زیادہ راتیں محاصرہ فرمایا تو بنو ثقیف نے تیروں اور پتھروں سے لڑائی کی۔ وہ طائف کے قلعہ میں تھے۔ مسلمانوں اور بنو ثقیف کے زیادہ آدمی قتل ہوئے اور مسلمانوں نے بنو ثقیف کے انگوروں کے پودے غصہ دلانے کے لیے کاٹ ڈالے۔ عروہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا: ”ہر شخص پانچ درخت کھجور یا پانچ پودے انگور کے کاٹ ڈالے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ زیادہ ہے، ان کا پھل کھایا نہیں جاتا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا: ”وہ درخت کاٹے جائیں جن کا پھل کھایا جاتا ہے، پہلے وہ کاٹو۔“