السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قطع الشجر وحرق المنازل باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18118
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي غَزْوَةِ الطَّائِفِ، قَالَ: " وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَكَمَةِ عِنْدَ حِصْنِ الطَّائِفِ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُقَاتِلُهُمْ، فَذَكَرَهُ. قَالَ: وَقَطَعُوا طَائِفَةً مِنْ أَعْنَابِهِمْ لِيَغِيظُوهُمْ بِهَا، فَقَالَتْ ثَقِيفٌ: لَا تُفْسِدُوا الْأَمْوَالَ فَإِنَّهَا لَنَا أَوْ لَكُمْ. قَالَ: وَاسْتَأْذَنَهُ الْمُسْلِمُونَ فِي مُنَاهَضَةِ الْحِصْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَرَى أَنْ نَفْتَحَهُ، وَمَا أُذِنَ لَنَا فِيهِ الْآنَ ".حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ غزوہ طائف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف کے قلعہ کے پاس اونچی جگہ پر دس سے زیادہ راتیں پڑاؤ کیا۔ آپ ﷺ ان سے لڑائی کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے ان کو غصہ دلانے کے لیے انگور کی بیلیں کاٹ ڈالیں تو بنو ثقیف کہنے لگے: مالوں کو خراب نہ کرو، یہ ہمارے یا تمہارے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے قلعہ والوں کے مقابلہ کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے خیال میں ہم اس کو فتح نہ کر پائیں گے اور نہ ہی ابھی اجازت دی گئی ہے۔“