حدیث نمبر: 18071
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " أَبَقَتْ أَمَةٌ لِبَعْضِ الْعَرَبِ فَوَقَعَتْ بِوَادِي الْقُرَى، فَانْتَهَتْ إِلَى الْحِيِّ الَّذِي أَبَقَتْ مِنْهُمْ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، فَنَثَرَتْ لَهُ بَطْنُهَا، ثُمَّ عَثَرَ عَلَيْهَا سَيِّدُهَا فَاسْتَاقَهَا وَوَلَدَهَا، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْعُذْرِيِّ - يَعْنِي قَضَى لَهُ بِوَلَدِهِ - وَقَضَى عَلَيْهِ بِالْغُرَّةِ لِكُلِّ وَصِيفٍ وَصِيفٌ، وَلِكُلِّ وَصِيفَةٍ وَصِيفَةٌ، وَجَعَلَ ثَمَنَ الْغُرَّةِ إِذَا لَمْ تُوجَدْ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى سِتِّينَ دِينَارًا أَوْ سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَادِيَةِ سِتَّ فَرَائِضَ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا وَرَدَ فِي وَطْءِ الشُّبْهَةِ، فَيَكُونُ الْوَلَدُ حُرًّا وَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ لِصَاحِبِ الْجَارِيَةِ، وَكَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى الْقِيمَةَ بِمَا نُقِلَ فِي هَذَا الْأَثَرِ إِنْ ثَبَتَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَجَرَيَانُ الرِّقِّ عَلَى سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَهَوَازِنَ صَحِيحٌ ثَابِتٌ، وَالْمَنُّ عَلَيْهِمْ بِإِطْلَاقِ السَّبَايَا تَفَضُّلٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی عرب کی ایک لونڈی بھاگ گئی جو وادیِ قریٰ سے جا کر اس قبیلے سے جا ملی جس سے بھاگ کر گئی تھی، تو بنو عذرہ کے ایک شخص نے اس سے شادی کر لی تو وہ حاملہ ہو گئی۔ پھر مالک کو اس کا پتا چلا تو وہ لونڈی اور اس کے بچے کو لے گیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عذرہ کے اس شخص کے لیے بچے کا فیصلہ فرمایا اور اس پر ہر ایک کے عوض ایک غلام ڈالا اور شہر والوں پر ایک غلام کی قیمت چھ دینار یا دو سو دینار مقرر فرمائی اور دیہاتی پر چھ فرائض۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ وطی کے شبہ کی بنا پر ہے کیونکہ بچہ آزاد ہو گا، اس کے ذمے لونڈی والے کے لیے قیمت (کی ادائیگی) ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس اثر کو زائل کرنے کے لیے قیمت مقرر فرماتے تھے۔ لیکن بنو مصطلق و ہوازن پر غلام کا اطلاق کیا گیا جو صحیح ثابت ہے لیکن بعد میں احسان کر کے شرافت کی بنا پر غلامی سے آزادی دی گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18071
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»