حدیث نمبر: 18067
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَدْ سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهَوَازِنَ وَقَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ وَأَجْرَى عَلَيْهِمُ الرِّقَّ حَتَّى مَنَّ عَلَيْهِمْ بَعْدُ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِي، فَزَعَمَ بَعْضُهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَطْلَقَ سَبْيَ هَوَازِنَ قَالَ: " لَوْ كَانَ تَامًّا عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ سَبْيٌ لَتَمَّ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنَّهُ إِسَارٌ وَفِدَاءٌ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَمَنْ ثَبَّتَ هَذَا الْحَدِيثَ زَعَمَ أَنَّ الرِّقَّ لَا يَجْرِي عَلَى عَرَبِيٍّ بِحَالٍ، " وَهَذَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالشَّعْبِيِّ ". وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے بنو مصطلق، ہوازن جو عرب کے قبیلے تھے ان کو غلام بنانے کے بعد احسان کر کے آزاد فرمایا۔ اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے جب ہوازن کے قیدی چھوڑے تو فرمایا: ”اگر عرب کے کوئی مکمل قیدی ہوتے تو وہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تھے لیکن قید کے بعد فدیہ ہونا تھا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے اس حدیث کو ثابت کیا ہے ان کے نزدیک عرب کے باشندے کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 18068
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح، قَالَ: وَأنبأ سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يُسْتَرَقُّ عَرَبِيٌّ " قَالَ: وَأَنْبَأَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ فِي الْمَوْلَى يَنْكِحُ الْأَمَةَ: يُسْتَرَقُّ وَلَدُهُ. وَفِي الْعَرَبِيِّ يَنْكِحُ الْأَمَةَ: لَا يُسْتَرَقُّ وَلَدُهُ، عَلَيْهِ قِيمَتُهُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمَنْ لَمْ يُثْبِتِ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ سَوَاءٌ، وَأَنَّهُ يَجْرِي عَلَيْهِمُ الرِّقُّ حَيْثُ جَرَى عَلَى الْعَجَمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ". قَالَ الرَّبِيعُ: وَبِهِ يَأْخُذُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " أَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عربی کو غلام نہیں بنایا جائے گا۔
(ب) زہری، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام، لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے، اس کی اولاد غلام ہوگی، عربی بھی لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے لیکن اس کی اولاد کو غلام نہ بنایا جائے گا، اس کے ذمہ ان کی قیمت ادا کرنا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے بلکہ عربی و عجمی دونوں برابر ہیں، جہاں عجمی پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا وہاں عربی پر بھی ہوگا۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول کو نقل کیا ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ حنین کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عرب میں سے کسی پر غلامی کا اطلاق آج کے بعد ہو سکتا تو یہ لوگ تھے، لیکن یہ تو قید اور فدیہ دینا ہے۔“
(ب) زہری، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام، لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے، اس کی اولاد غلام ہوگی، عربی بھی لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے لیکن اس کی اولاد کو غلام نہ بنایا جائے گا، اس کے ذمہ ان کی قیمت ادا کرنا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے بلکہ عربی و عجمی دونوں برابر ہیں، جہاں عجمی پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا وہاں عربی پر بھی ہوگا۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول کو نقل کیا ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ حنین کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عرب میں سے کسی پر غلامی کا اطلاق آج کے بعد ہو سکتا تو یہ لوگ تھے، لیکن یہ تو قید اور فدیہ دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 18069
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا ⦗١٢٦⦘ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَيْسَ عَلَى عَرَبِيٍّ مِلْكٌ، وَلَسْنَا بِنَازِعِي مِنْ يَدِ رَجُلٍ شَيْئًا أَسْلَمَ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّا نُقَوِّمُهُمُ الْمِلَّةَ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَقُولُ هَذَا الَّذِي فِي يَدِهِ السَّبْيُ لَا نَنْزِعُهُ مِنْ يَدِهِ بِلَا عِوَضٍ؛ لِأَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَيْهِ، وَلَا نَتْرُكُهُ مَمْلُوكًا وَهُوَ مِنَ الْعَرَبِ، وَلَكِنَّهُ قَوَّمَ قِيمَتَهُ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ لِلَّذِي سَبَاهُ، وَيَرْجِعُ إِلَى نَسَبِهِ عَرَبِيًّا كَمَا كَانَ. قَاَلَ الشَّيْخُ " وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ مُنْقَطِعَةٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمانے لگے: عربی انسان کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور ہم کسی شخص کے احسان کے بارے میں جھگڑا کرنے والے نہیں ہیں لیکن ہم اس کی پانچ اونٹ قیمت مقرر کر دیں گے۔
ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب کوئی کسی کے ہاتھ غلام ہو تو ہم بلا قیمت نہ لیں گے کیونکہ وہ اس کا محافظ ہے اور غلام بھی رہنے نہ دیں گے کیونکہ وہ عربی ہے، لیکن غلام بنانے والے کو پانچ اونٹ قیمت ادا کی جائے گی اور عربی اپنے نسب کی جانب واپس لوٹ جائے گا۔
ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب کوئی کسی کے ہاتھ غلام ہو تو ہم بلا قیمت نہ لیں گے کیونکہ وہ اس کا محافظ ہے اور غلام بھی رہنے نہ دیں گے کیونکہ وہ عربی ہے، لیکن غلام بنانے والے کو پانچ اونٹ قیمت ادا کی جائے گی اور عربی اپنے نسب کی جانب واپس لوٹ جائے گا۔
حدیث نمبر: 18070
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ هُوَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فَرَضَ فِي كُلِّ سَبْيٍ فُدِيَ مِنَ الْعَرَبِ سِتَّةَ فَرَائِضَ، وَأَنَّهُ كَانَ يَقْضِي بِذَلِكَ فِيمَنْ تَزَوَّجَ الْوَلَائِدَ مِنَ الْعَرَبِ ". وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ إِلَّا أَنَّهُ جَيِّدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہر غلام کے عوض کچھ فدیہ مقرر فرمایا؛ عربی غلام کے بدلے جانور۔ یہ فیصلہ ان کے بارے میں فرمایا جس نے عرب لونڈیوں سے شادی کر رکھی تھی۔
حدیث نمبر: 18071
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " أَبَقَتْ أَمَةٌ لِبَعْضِ الْعَرَبِ فَوَقَعَتْ بِوَادِي الْقُرَى، فَانْتَهَتْ إِلَى الْحِيِّ الَّذِي أَبَقَتْ مِنْهُمْ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، فَنَثَرَتْ لَهُ بَطْنُهَا، ثُمَّ عَثَرَ عَلَيْهَا سَيِّدُهَا فَاسْتَاقَهَا وَوَلَدَهَا، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْعُذْرِيِّ - يَعْنِي قَضَى لَهُ بِوَلَدِهِ - وَقَضَى عَلَيْهِ بِالْغُرَّةِ لِكُلِّ وَصِيفٍ وَصِيفٌ، وَلِكُلِّ وَصِيفَةٍ وَصِيفَةٌ، وَجَعَلَ ثَمَنَ الْغُرَّةِ إِذَا لَمْ تُوجَدْ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى سِتِّينَ دِينَارًا أَوْ سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَادِيَةِ سِتَّ فَرَائِضَ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا وَرَدَ فِي وَطْءِ الشُّبْهَةِ، فَيَكُونُ الْوَلَدُ حُرًّا وَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ لِصَاحِبِ الْجَارِيَةِ، وَكَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى الْقِيمَةَ بِمَا نُقِلَ فِي هَذَا الْأَثَرِ إِنْ ثَبَتَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَجَرَيَانُ الرِّقِّ عَلَى سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَهَوَازِنَ صَحِيحٌ ثَابِتٌ، وَالْمَنُّ عَلَيْهِمْ بِإِطْلَاقِ السَّبَايَا تَفَضُّلٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی عرب کی ایک لونڈی بھاگ گئی جو وادیِ قریٰ سے جا کر اس قبیلے سے جا ملی جس سے بھاگ کر گئی تھی، تو بنو عذرہ کے ایک شخص نے اس سے شادی کر لی تو وہ حاملہ ہو گئی۔ پھر مالک کو اس کا پتا چلا تو وہ لونڈی اور اس کے بچے کو لے گیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عذرہ کے اس شخص کے لیے بچے کا فیصلہ فرمایا اور اس پر ہر ایک کے عوض ایک غلام ڈالا اور شہر والوں پر ایک غلام کی قیمت چھ دینار یا دو سو دینار مقرر فرمائی اور دیہاتی پر چھ فرائض۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ وطی کے شبہ کی بنا پر ہے کیونکہ بچہ آزاد ہو گا، اس کے ذمے لونڈی والے کے لیے قیمت (کی ادائیگی) ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس اثر کو زائل کرنے کے لیے قیمت مقرر فرماتے تھے۔ لیکن بنو مصطلق و ہوازن پر غلام کا اطلاق کیا گیا جو صحیح ثابت ہے لیکن بعد میں احسان کر کے شرافت کی بنا پر غلامی سے آزادی دی گئی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ وطی کے شبہ کی بنا پر ہے کیونکہ بچہ آزاد ہو گا، اس کے ذمے لونڈی والے کے لیے قیمت (کی ادائیگی) ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس اثر کو زائل کرنے کے لیے قیمت مقرر فرماتے تھے۔ لیکن بنو مصطلق و ہوازن پر غلام کا اطلاق کیا گیا جو صحیح ثابت ہے لیکن بعد میں احسان کر کے شرافت کی بنا پر غلامی سے آزادی دی گئی۔
حدیث نمبر: 18072
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗١٢٧⦘ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبَايَا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، ثُمَّ قُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن محیریز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ میں نے ان کے پاس بیٹھ کر عزل کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق کے لیے گئے تو ہم نے عربوں کی لونڈیاں حاصل کیں۔ ہمیں عورت کی خواہش بھی تھی اور عورت سے جدا رہنا مشکل ہو گیا تھا اور ہم فدیہ کو بھی محبوب رکھتے تھے، تو ہم نے عزل کا ارادہ کیا۔ پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں بغیر پوچھے عزل نہیں کریں گے، پہلے پوچھیں گے؟ ہم نے پوچھ لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کر لو، لیکن جس جان نے کائنات میں آنا ہے وہ آکر ہی رہے گی۔“
حدیث نمبر: 18073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ، فَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَكَرِهْتُهَا، وَقُلْتُ: سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَمَا رَأَيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ سَيِّدِ قَوْمِهِ، وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، وَقَدْ كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي فَأَعِنِّي عَلَى كِتَابَتِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ؟ ". فَقَالَتْ: نَعَمْ. فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَلَقَدْ أُعْتِقَ بِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهَا عَلَى قَوْمِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق کی لونڈیاں تقسیم فرمائیں تو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا کے بیٹے کے حصے میں آئیں۔ انہوں نے مکاتبت (آزادی کا معاہدہ) کر لی۔ وہ ایک شرمیلی باحیا خاتون تھیں جسے کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا، تو اس خاتون نے اپنے آپ کو روک لیا اور رسول اللہ ﷺ سے اپنی مکاتبت کے بارے میں مدد کا سوال کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے اس کو اچھا نہ جانا، میں نے (دل میں) کہا: آپ بھی اسی طرح اس سے محسوس کریں جیسے میں نے کیا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں جویریہ بنت حارث ہوں، اپنی قوم کے سردار کی بیٹی، میرے اوپر وہ پریشانی آئی ہے جو آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں نے مکاتبت کی ہے جس میں آپ میری مدد فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یا اس سے بھی بہتر، میں تمہاری کتابت ادا کر کے تم سے شادی کر لوں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کر لیا۔ جب لوگوں کو پتا چلا کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی کر لی ہے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سسرال بنو مصطلق کے سو افراد کو آزاد کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے علم نہیں کہ اس خاتون سے بڑھ کر کوئی عورت اپنی قوم کے لیے برکت کا باعث بنی ہو۔
حدیث نمبر: 18074
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ هَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَسَبَايَاهُمْ، أَدْرَكَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَةِ وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَنَا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ. وَقَامَ خَطِيبُهُمْ زُهَيْرُ بْنُ صُرَدَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا فِي الْحَظَائِرِ مِنَ السَّبَايَا خَالِاتُكَ وَعَمَّاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ اللَّاتِي كُنَّ يَكْفُلْنَكَ، وَذَكَرَ كَلَامًا وَأَبْيَاتًا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِسَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ أَمْ أَمْوَالُكُمْ؟ ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا، أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا. فَقَالَ ⦗١٢٨⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، وَإِذَا أَنَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولَوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا سَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ. فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ". وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا. فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا. فَقَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: بَلْ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَمْسَكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَيْءٍ نُصِيبُهُ ". فَرَدُّوا إِلَى النَّاسِ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ. " وَحَدِيثُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ فِي سَبْيِ هَوَازِنَ قَدْ مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہمیں قبیلہ ہوازن سے مال اور لونڈیاں میسر آئیں۔ لیکن ہوازن کے لوگ جعرانہ نامی جگہ پر مسلمان ہو کر نبی ﷺ کو ملے، انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے مال اور افراد واپس کر دیں، جو پریشانی ہمیں آئی ہے آپ پر پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ آپ ہمارے اوپر احسان کریں جیسے اللہ نے آپ پر احسان فرمایا ہے۔“ ان کے خطیب زہیر بن صرد کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! لونڈیوں میں آپ کی خالائیں، پھوپھیاں اور بچپن میں آپ کی پرورش کرنے والیاں بھی موجود ہیں۔“ انہوں نے لمبی کلام کی اور اشعار پڑھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں عورتیں اور اولاد پسند ہے یا مال؟“ انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے ہمارے حسب و نسب اور مال میں اختیار دیا ہے، ہمیں عورتیں اور مال زیادہ محبوب ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہیں وہ سب تمہارا ہے۔ جس وقت میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو وہاں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی جانب سفارشی بناتے ہیں یا مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس سفارشی پیش کرتے ہیں اپنے بیٹوں اور عورتوں کے بارے میں۔ عنقریب میں تمہیں عطا کر دوں گا اور تمہارے لیے سفارش بھی کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور جو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا کہہ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہے وہ تمہارا ہے“ اور مہاجرین و انصار کہنے لگے: ”جو ہمارا ہے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کا ہے“ اور اقرع بن حابس نے کہہ دیا کہ میں اور بنو تمیم نہ دیں گے۔ اسی طرح عباس بن مرداس سلمی نے بھی کہہ دیا لیکن بنو سلیم کہنے لگے: ”ہمارا حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہی ہے“ اور عیینہ بن بدر نے بھی انکار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنا حق روک لیا وہ بھی ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیں، ہم پہلے «الْفَيْءِ» ”مالِ فئے“ سے اس کو ہر انسان کے عوض چھ اونٹ عطا کریں گے۔“
حدیث نمبر: 18075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ثَلَاثٌ سَمِعْتُهُنَّ لِبَنِي تَمِيمٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُبْغِضُ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَهُنَّ أَبَدًا، كَانَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَذْرٌ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَسُبِيَ سَبْيٌ مِنْ بَلْعَنْبَرِ، فَلَمَّا جِيءَ بِذَلِكَ السَّبْيِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ سَرَّكِ أَنْ تَفِي بِنَذْرِكِ فَأَعْتِقِي مُحَرَّرًا مِنْ هَؤُلَاءِ ". فَجَعَلَهُمْ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَجِيءَ بِنَعَمٍ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَآهُ رَاعَهُ حُسْنُهُ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا نَعَمُ قَوْمِي، فَجَعَلَهُمْ قَوْمَهُ. قَالَ: وَقَالَ: هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالًا فِي الْمَلَاحِمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے بنو تمیم کے بارے میں تین باتیں سنیں: ”میں بنو تمیم سے اس کے بعد بغض نہ رکھوں گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا نذر تھی، جب بنو عنبر سے قیدی بنائے گئے اور ان کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ! اگر تجھے اچھا لگے کہ تو اپنی نذر پوری کرے تو ان لوگوں سے غلام کو آزاد کر دے۔“ آپ ﷺ نے ان کو اسماعیل کی اولاد سے شمار فرمایا اور جب صدقہ کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ان کی خوبصورتی کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ جانور میری قوم کے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر لڑائیوں میں وہ سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 18076
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ سَبْيًا مِنْ خَوْلَانَ قَدِمَ، وَكَانَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَقَدِمَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ، فَنَهَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ أَحْسِبُهُ قَالَ: " مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا أَنْ تُعْتِقَ ". تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خولان سے لونڈیاں آئیں اور سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا تھا۔ یمن سے غلام آئے۔ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ نے منع فرما دیا۔ میرا خیال ہے کہ پھر مضر قبیلہ کے غلام آئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بنو عنبر سے ہیں۔“ نبی کریم ﷺ نے ان کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔