السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 18070
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ هُوَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فَرَضَ فِي كُلِّ سَبْيٍ فُدِيَ مِنَ الْعَرَبِ سِتَّةَ فَرَائِضَ، وَأَنَّهُ كَانَ يَقْضِي بِذَلِكَ فِيمَنْ تَزَوَّجَ الْوَلَائِدَ مِنَ الْعَرَبِ ". وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ إِلَّا أَنَّهُ جَيِّدٌ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہر غلام کے عوض کچھ فدیہ مقرر فرمایا؛ عربی غلام کے بدلے جانور۔ یہ فیصلہ ان کے بارے میں فرمایا جس نے عرب لونڈیوں سے شادی کر رکھی تھی۔