السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗١٢٧⦘ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبَايَا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، ثُمَّ قُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.ابن محیریز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ میں نے ان کے پاس بیٹھ کر عزل کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق کے لیے گئے تو ہم نے عربوں کی لونڈیاں حاصل کیں۔ ہمیں عورت کی خواہش بھی تھی اور عورت سے جدا رہنا مشکل ہو گیا تھا اور ہم فدیہ کو بھی محبوب رکھتے تھے، تو ہم نے عزل کا ارادہ کیا۔ پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں بغیر پوچھے عزل نہیں کریں گے، پہلے پوچھیں گے؟ ہم نے پوچھ لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کر لو، لیکن جس جان نے کائنات میں آنا ہے وہ آکر ہی رہے گی۔“