السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا ⦗١٢٦⦘ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَيْسَ عَلَى عَرَبِيٍّ مِلْكٌ، وَلَسْنَا بِنَازِعِي مِنْ يَدِ رَجُلٍ شَيْئًا أَسْلَمَ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّا نُقَوِّمُهُمُ الْمِلَّةَ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَقُولُ هَذَا الَّذِي فِي يَدِهِ السَّبْيُ لَا نَنْزِعُهُ مِنْ يَدِهِ بِلَا عِوَضٍ؛ لِأَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَيْهِ، وَلَا نَتْرُكُهُ مَمْلُوكًا وَهُوَ مِنَ الْعَرَبِ، وَلَكِنَّهُ قَوَّمَ قِيمَتَهُ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ لِلَّذِي سَبَاهُ، وَيَرْجِعُ إِلَى نَسَبِهِ عَرَبِيًّا كَمَا كَانَ. قَاَلَ الشَّيْخُ " وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ مُنْقَطِعَةٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمانے لگے: عربی انسان کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور ہم کسی شخص کے ہاتھ سے وہ چیز چھیننے والے نہیں ہیں جس پر رہتے ہوئے وہ مسلمان ہوا لیکن ہم اس کی پانچ اونٹ قیمت مقرر کر دیں گے۔
ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب کوئی کسی کے ہاتھ غلام ہو تو ہم بلا قیمت نہ لیں گے کیونکہ وہ اس (کی ملکیت) پر رہتے ہوئے مسلمان ہوا ہے اور غلام بھی رہنے نہ دیں گے کیونکہ وہ عربی ہے، لیکن غلام بنانے والے کو پانچ اونٹ قیمت ادا کی جائے گی اور عربی اپنے نسب کی جانب واپس لوٹ جائے گا۔
یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے۔