السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح، قَالَ: وَأنبأ سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يُسْتَرَقُّ عَرَبِيٌّ " قَالَ: وَأَنْبَأَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ فِي الْمَوْلَى يَنْكِحُ الْأَمَةَ: يُسْتَرَقُّ وَلَدُهُ. وَفِي الْعَرَبِيِّ يَنْكِحُ الْأَمَةَ: لَا يُسْتَرَقُّ وَلَدُهُ، عَلَيْهِ قِيمَتُهُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمَنْ لَمْ يُثْبِتِ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ سَوَاءٌ، وَأَنَّهُ يَجْرِي عَلَيْهِمُ الرِّقُّ حَيْثُ جَرَى عَلَى الْعَجَمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ". قَالَ الرَّبِيعُ: وَبِهِ يَأْخُذُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " أَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ ".شعبی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عربی کو غلام نہیں بنایا جائے گا۔
(ب) زہری، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام، لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے، اس کی اولاد غلام ہوگی، عربی بھی لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے لیکن اس کی اولاد کو غلام نہ بنایا جائے گا، اس کے ذمہ ان کی قیمت ادا کرنا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے بلکہ عربی و عجمی دونوں برابر ہیں، جہاں عجمی پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا وہاں عربی پر بھی ہوگا۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول کو نقل کیا ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ حنین کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عرب میں سے کسی پر غلامی کا اطلاق آج کے بعد ہو سکتا تو یہ لوگ تھے، لیکن یہ تو قید اور فدیہ دینا ہے۔“